30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من باب الطب کما یتضرر باکل مایعاف وشم مایکرہ والمقام فی مقام لایوافق ھواہ وکلہ باذن اﷲ وماھم بضارین بہ من احد الا باذن اﷲ نقلہ فی المجمع[1] و عزاہ فی الاشعۃ للامام النووی اقول: لعل ھذا ایضا لذاك فان الذی رأیت فی منھاجہ تصویب الوجہ الثامن الاٰتی ولم یعر ج علی ذکرھذا فاﷲ تعالٰی اعلم وظنی ان الذی فی نسختی الاشعۃ تصحیف من البغوی فان الذی نقلہ ترجمۃ کلام البغوی سواء بسواء غیران البغوی ایضا لم یقل بہ وانما نقلہ بقیل ممرضا ثم اقول: لاادری ماالتنافی بین بابی العدوٰی والطب فالطب قائل فی ھذا المرض بالعدوی کما |
کھائے پئے اور لیٹے تو یہ بیماری اس کو بھی لاحق ہوجاتی ہے اور یہ عدوٰی میں سے نہیں بلکہ باب طب سے ہے جیسے گھِن والی ناپسندیدہ چیز کھانے سے نقصان اور ضررہوتاہے اور اسی طرح ناگوار چیزسونگھنے سے اور ناموافق ہوا والی جگہ(یعنی آلودگی والی فضا)میں ٹھہرنے سے ضررہوتاہے(بس یہاں بھی یہی مرادہے)اور درحقیقت یہ سب کچھ باذن الٰہی ہوتا ہے(چنانچہ)وہ اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے مگر اﷲ تعالٰی کے اذن ومشیّت سے۔چنانچہ مجمع البحار میں اس کو نقل کیاہے اور شیخ محقق نے اشعۃ اللمعات میں اس کو امام نووی کی طرف منسوب کیاہے اقول:(میں کہتاہوں)شاید یہ بھی اسی طرح ہے کیونکہ میں نے جو کچھ امام نووی کی منہاج میں دیکھاہے وہ آنے والی آٹھویں وجہ کی تصویب ہے اور اس کے ذکر پر اس نے عروج یعنی موافقت نہیں کی اور حقیقت حال کو اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔اشعۃ اللمعات کا جو نسخہ میرے پاس ہے میراخیال ہے کہ اس میں بغوی کی عبارت میں تبدیلی ہوگئی ہے کیونکہ شیخ نے بغوی کے کلام کا ہو بہو ترجمہ نقل کیاہے،اس کے باوجود بغوی نے بھی یہ نہیں کہا بلکہ اس نے کلمہ تمریض کے ساتھ اسے نقل کیاہے۔ ثم اقول: (پھرمیں کہتاہوں)میں یہ نہیں جانتا کہ عدوٰی اور طب کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع