30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نیزکرد[1]۔ |
ہیضہ،طاعون وغیرہ)شارع نے ان سب کے تعدیہ کی نفی فرمائی اور اس کا ابطال کیا،پس شارع کی مراد یہ ہے کہ کسی مرض میں سرایت اور تجاوز نہیں(کہ ایك کا مرض بوجہ اختلاط دوسرے کو لگ جائے)بلکہ قادر مطلق نے جس طرح ایك کو بیمار کیا اسی طرح دوسرے کو بھی بیماری لاحق کردی۔(ت) |
بالجملہ ان پانچوں اقوال پرعدوٰی باطل محض ہے یہی مذہب ہے حضرت افضل الاولیاء الاولین والآخرین سیدناصدیق اکبرو حضرت سیدنافاروق اعظم وحضرت سلمان فارسی وحضرت ام المومنین صدیقہ وحضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہم اجلہ صحابہ کرام کا،اور اسی کو اختیارفرمایا امام اجل طحاوی سیدالحنفیہ وامام یحیٰی بن یحیٰی مالکی وامام عیسٰی بن دینار مالکی وامام ابن بطال ابوالحسن علی بن خلف مغربی مالکی وامام ابن حجرعسقلانی شافعی وعلامہ طاہرحنفی وشیخ محقق عبدالحق محدث حنفی وغیرہم جمہور علمائے کرام رحمہم اﷲ تعالٰی نے عمدۃ القاری میں طبری سے ہے:
|
کان ابن عمر وسلمان رضی اﷲ تعالٰی عنھم یصنعان الطعام للمجذومین ویاکلان معھم وعن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قالت کان مولی لنا اصحابہ ذٰلك الداء فکان یاکل فی صحانی ویشرب فی اقداحی وینام علٰی فراشی[2]۔ |
یعنی عبداﷲ بن عمر و سلمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم مجذومین کے لئے کھاناتیارفرماتے اور ان کے ساتھ کھاتے اور ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے مروی ہوا کہ ہمارے ایك غلام آزاد شدہ کویہ مرض ہوگیاتھا وہ میرے برتنوں میں کھاتا میرے پیالوں میں پیتا بچھونوں پرسوتا۔ |
زرقانی علی المؤطا میں زیرحدیث انہ اذی(بیشك وہ ایذا ہے۔ت)فرمایا:
|
قال یحٰیی بن یحٰیی سمعت ان تفسیرہ فی رجل یکون بہ الجذام فلاینبغی لہ ان ینزل علی الصحیح یؤذیہ لانہ وان کان لایعدی فالانفس تکرھہ وقدقال |
یحیٰی بن یحیٰی نے فرمایا کہ میں نے سنا کہ اس کی تفسیر اس شخص کے بارے میں ہے جس کو مرض جذام ہوجائے تو اسے مناسب نہیں کہ کسی تندرست آدمی کے پاس آئے کہ اسے ایذا ہوگی اس لئے کہ اگرچہ تعدیہ مرض کااعتقاد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع