30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ویلاصقہ ممن لیس بہ داء فنفاہ الشرع وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاعدوی یحتمل النھی عن قول ذٰلك واعتقادہ و النفی لحقیقۃ ذٰلك کما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایعدی شیئ شیئا وقولہ فمن اعدی الاول وکلاھما مفھوم من الشرع[1]۔ |
اور پہنچ جاتا ہے جو اس مریض سے قرب اور اتصال رکھے باوجودیکہ اس میں پہلے کوئی مرض نہ تھا پس شریعت نے اس اعتقاد کی نفی فرمائی ہے،حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد لاعدوٰی یہ احتمال رکھتاہے کہ اس کہنے اور اعتقاد رکھنے سے نہی ہو اور اس کی حقیقت کی نفی ہو۔جیسا کہ حضور انور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کاارشاد ہے کہ کوئی چیز کسی دوسری چیز کی طرف تجاوز نہیں کرتی،اور آپ کا ارشاد گرامی ہے پھر پہلے مریض میں کیسے تعدیہ مرض پیدا ہوا۔اور یہ دونوں باتیں شریعت سے سمجھی گئیں۔(ت) |
اُسی میں نزہۃ النظرللحافظ ابن حجر سے ہے:
|
الاولی فی الجمع ان یقال ان نفیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للعدوی باق علی عمومہ و قدصح قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایعدی شیئ شیئا وقولہ فمن اعدی الاول یعنی ان اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی ابتدأ ذالك فی الثانی کما ابتدأہ فی الاول واما الامر بالفرار من المجذوم فمن باب سدالذرائع لئلا یتفق للشخص الذی یخالطہ شیئ من ذٰلك بقدراﷲ تعالٰی ابتداء لابالعدوی المنفیۃ فیظن ان ذٰلك بسبب مخالطۃ فیعتقد صحۃ العدوی فیقع فی الحرج فامر بتجنبہ حسما للمادۃ[2]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
دونوں حدیثوں کو جمع کرنے میں بہتریہ ہے کہ یوں کہاجائے کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا تعدیہ مرض کی نفی کرنا اپنے عموم پرباقی ہے اور بلاشبہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کایہ ارشاد گرامی صحیح ہے کہ کوئی چیز کسی دوسری چیز کی طرف تجاوز نہیں کرتی،اور آپ کا یہ ارشاد مبارك کہ پہلے میں کیسے مرض ہوا۔اﷲ تعالٰی پاك وبرتر نے ہی دوسرے مریض کو بھی مرض لاحق کیا جس طرح اس نے پہلے مریض کو لاحق کیاتھا۔جہاں تك جذامی سے دوربھاگنے او ردوررہنے کے حکم کاتعلق ہے تو یہ ذرائع اور وسائل کو بند کرنے کے باب سے ہے،یعنی جو شخص تندرست حالت میں جذامی آدمی کے ساتھ اختلاط اور میل جول رکھے اور اتفاقًا اسے اﷲ تعالٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع