30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
خطرے کے پیش نظر کہ کہیں اس کے گِرپڑنے سے ہلاکت نہ ہوجائے آپ نے جلدی فرمائی،تو پھر آپ کے لئے کیسے رواہے کہ آپ وہ کام کریں کہ جس سے تعدیہ مرض کااندیشہ اور خطرہ رہے۔پھر ہمارے نزدیك ان آثار کایہ مفہوم ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم ملتقطا۔(ت) |
عمدۃ القاری میں ہے:
|
التوفیق بین الحدیثین بماقالہ ابن بطال و ھو ان لا عدوی اعلام بانھا لاحقیقۃ لھاواما النھی فلئلا یتوھم المصح ان مرضھا من اجل ورود المرضی علیھا فیکون داخلا بتوھمہ ذٰلك فی تصحیح ماابطلہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من العدوٰی[1]۔ |
دونوں حدیثوں میں موافقت ابن بطال کے قول کے مطابق یہ ہے کہ لاعدوٰی کسی مرض میں تجاوز کے لئے نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ تعدیہ مرض کی کوئی حقیقت نہیں،رہا یہ کہ پھر ایسے مریضوں کے ساتھ میل جول سے کیوں روکاگیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تندرست آدمی کو اگرمریض کے پاس آمدورفت کے دوران وہی مرض لگ گیا تو اس کے دل میں وہم پیداہوجائے گا کہ اسے یہ مرض مریض ہی سے لگا ہے اور پھر وہ اس وہم سے تعدیہ مرض کی صحت کا قائل ہوجائے گا کہ جس کا خود حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ابطال فرمایا(ت) |
ماثبت بالسنۃ میں جامع الاصول سے ہے:
|
یقال اعدی المرض اذا اصابہ مثلہ لمقارنتہ و مجاورتہ اومؤاکلتہ ومباشرتہ وقدابطلہ الاسلام [2] |
کہاجاتاہے اعدی المرض یعنی مرض تجاوز کرگیا جبکہ کسی مریض کے ساتھ میل جول اور اس کے ساتھ کھانے پینے اور مباشرت سے کسی تندرست آدمی کو اسی جیسا مرض لگ جائے(تو اس وقت یہ کہاجاتا ہے کہ مریض کامرض اُڑ کر فلاں تندرست آدمی کو لاحق ہوگیاہے)حالانکہ اسلام نے تعدیہ مرض کاابطال کیاہے۔(ت) |
اسی میں مشارق الانوار امام قاضی عیاض سے ہے:
|
العدوی ماکانت تعتقدہ الجاھلیۃ من تعدی داء ذی الداء الی من یجاورہ |
تعدیہ مرض جس کااعتقاد اہل جاہلیت رکھتے تھے کہ کسی مریض کامرض اس شخص تك تجاوز کرجاتا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع