30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی علیہ وسلم نفی العدوی ان یکون ابدا ویجعل قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایورد ممرض علی مصح علی الخوف منہ ان یورد علیہ فیصیبہ بقدر اﷲ تعالٰی مااصاب الاول فیقول الناس اعداہ الاول فکرہ ایراد المصح علی الممرض خوف ھذا القول،وقد روینا عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی ھذہ الاٰثار ایضا وضعہ یدالمجذوم فی القصعۃ فدل فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایضا علی نفی الاعداء لانہ لوکان الاعداء مما یجوزان یکون اذا لما فعل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مایخاف ذٰلك منہ لان فی ذٰلك جرالتلف الیہ وقد نھی اﷲ عزوجل عن ذٰلك فقال ولاتقتلوا انفسکم ومررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھدف مائل فاسرع فاذا کان یسرع من الھدف المائل مخافۃ الموت فکیف یجوز علیہ ان یفعل مایخاف منہ الاعداء،فھذا معنی ھذہ الاٰثار عندنا واﷲ تعالٰی اعلم[1] ملتقطا۔ |
حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا توتعدیہ مرض کی ہمیشہ نفی ہوگی اور ہم حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاد"کوئی مریض کسی تندرست پرنہ وارد ہو"کی بنیاد اس اندیشہ پررکھتے ہیں کہ مریض کبھی کبھار صحت مند اور تندرست کے پاس جائے اور پھرتندرست کوتقدیرالٰہی سے وہی مرض لاحق ہوجائے جس میں مریض مبتلا ہوچکاہو تو لوگ کہیں گے کہ پہلے کامرض(بطورتجاوز)اس میں سرایت کرگیاہے تو پھر اس کہنے کے اندیشہ سے کسی تندرست کا مریض کے پاس جانا یا اس کاالٹ ناپسندکیاگیا اور ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے ان آثار میں روایت کی کہ آپ نے خود جذامی کاہاتھ پکڑ کر کھانے کے پیالے میں رکھا،اس طرح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کااپنا مبارك عمل بھی تعدیہ مرض کی نفی کی دلیل ہے۔اگرتعدیہ مرض کسی طرح امکان رکھتا تونبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کبھی ایساخطرناك کام(جذامی کو اپنے ساتھ کھانا کھلانے والا)نہ کرتے کیونکہ اس میں ایذا کو اپنی طرف کھینچ کرلاناہے حالانکہ اﷲ تعالٰی بزرگ وبرتر نے اس سے منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے:(لوگو!)اپنے آپ کو قتل نہ کرو،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایك جھکے ہوئے (گرنے والے)ٹیلے کے پاس سے گزرے تو گزرنے میں جلدی سے کام لیا،جب آپ نے گرنے والے ٹیلے سے گزرتے ہوئے اس |
[1] شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۱۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع