30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہترہے،ہاں کامل الایمان وہ کرے جوصدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے کیا اور کس قدرمبالغہ کے ساتھ کیا اگر عیاذًا باﷲ کچھ حادث ہوتا ان کے خواب میں بھی خیال نہ گزرتاکہ یہ عدوائے باطلہ سے پیداہوا ان کے دلوں میں کوہ گراں شکوہ سے زیادہ مستقرتھا کہ " لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللہُ لَنَا ۚ "[1] (ہمیں ہرگزکچھ پہنچتا(یاپہنچ سکتا)سوائے اس کے جو اﷲ تعالٰی نے ہمارے مقدرمیں لکھ دیاہے۔ت)بے تقدیرالٰہی کچھ نہ ہوسکے گا،اسی طرف اس قول وفعل حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ اپنے ساتھ کھلایا اور کل ثقہ باﷲ وتوکلا علیہ(ایك جذامی سے آپ نے فرمایا)اﷲ تعالٰی پراعتماد اور بھروسا کرتے ہوئے(ہمارے ساتھ)کھائیے۔ت)فرمایا۔امام اجل امین،امام الفقہاء وامام المحدثین،وامام اہل الجرح والتعدیل،وامام اہل التصحیح والتعلیل،حدیث وفقہ دونوں کے حاوی سیدنا امام ابوجعفر طحاوی شرح معانی الآثار شریف میں دربارہ نفی عدوٰی احادیث سعدبن مالك وعلی مرتضٰی وعبداﷲ بن عباس وابی ہریرہ وعبداﷲ بن مسعود وعبداﷲ بن عمر وجابر بن عبداﷲ وانس بن مالك وسائب بن یزید وابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہم روایت کرکے فرماتے ہیں:
|
فقد نفی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم العدوٰی وفی ھذہ الاثار وقد قال فمن اعدی الاول ای لما کان مااصاب الاول انما کان بقدراﷲ عزوجل کان ما اصاب الثانی کذٰلک،فان قال قائل فنجعل ھذا مضادا لما روی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا یورد ممرض علی مصح کما جعلہ ابوھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قلت لاولکن یجعل قولہ لاعدوی کماقال النبی صلی اﷲ |
بیشك حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان آثار میں(احادیث)تعدیہ مرض کی نفی فرمائی،چنانچہ آپ کاارشاد ہے کہ پہلے مریض کو کیسے تعدیہ مرض ہوا بلکہ اﷲ تعالٰی عزوجل کی تقدیر سے لاحق ہوا۔اس لئے دوسرے کوبھی جو کچھ پہنچا اسی طرح پہنچا،اگرکوئی قائل یوں کہے کہ ہم اس کو اس حدیث کے متضاد قراردیتے ہیں جو حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ کوئی مریض کسی تندرست آدمی کے پاس نہ جائے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے یہی کہا ہے۔قلت(میں کہتاہوں کہ)ہم ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کے ارشاد لاعدوٰی کو لیتے ہیں جیسا کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع