30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
السلف الی الاکل معہ وان الامر باجتنابہ منسوخ وممن قال بذٰلك عیسٰی بن دینار من المالکیۃ[1] اھ وردہ الامام النووی بوجہین احدھما ان النسخ یشترط فیہ تعذر الجمع بین الحدیثین ولم یتعذر بل قدجمعنا بینھما والثانی انہ یشترط فیہ معرفۃ التاریخ و لیس ذٰلك موجودا ھٰھنا [2] اقول: نص القاضی ان امیرالمومنین کان یراہ منسوخا فانکان ھذا عن روایۃ کما ھو ظاھر اللفظ لم یرد علیہ شیئ من الوجہین لان الامیرالمومنین لایقول بہ الاعن علم وبعدہ لامساغ للجمع وان امکن باسھل وجہ نعم ان ذکرہ القاضی ظنا منہ فالوجہان وجیھان اقول: وثالثھما ماروینا فی الحدیث الثانی والثلثین حیث جمع صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم کلا الکلامین فی نسق واحد فاین النسخ لاسیما |
گئے ہیں کہ جذامی شخص کے ساتھ کھاناجائزہے اور اس سے بچنے کاحکم منسوخ ہے۔او رجن لوگوں نے یہ کہا ان میں عیسٰی ابن دینار مالکی ہیں اھ لیکن امام نووی نے اسے دووجہوں سے رَد کیاہے،ایك وجہ یہ ہے کہ نسخ کے لئے شرط یہ ہے کہ دو حدیثیں جمع نہ ہوسکیں اور یہاں جمع میں کوئی دشواری نہیں بلکہ ہم نے دونوں حدیثوں کو جمع کردیاہے،دوسری وجہ یہ کہ نسخ میں شرط ہے کہ تاریخ معلوم ہو(تاکہ پہلی کو منسوخ اور دوسری کوناسخ قراردیں)اور یہاں یہ موجودنہیں اقول: (میں کہتاہوں)امام قاضی عیاض نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ امیرالمومنین حدیث مذکور کو منسوخ سمجھتے تھے۔اگریہ بات روایت ہے جیسا کہ الفاظ سے ظاہرہوتاہے توپھردونوں وجہیں اس پر واردنہیں ہوسکتیں اس لئے کہ امیرالمومنین بغیر علم کے ایسانہیں فرماسکتے۔اور نسخ کے بعد جمع کی گنجائش نہیں اگرچہ کسی زیادہ آسان وجہ سے ممکن ہو۔ہاں اگرقاضی عیاض نے یہ(دعوی نسخ)اپنے گمان سے ذکرکیاہوتو پھر دونوں وجہیں وجیہہ ہیں،اور ان دونوں کے علاوہ تیسری وجہ وہ جس کوہم نے بتیسویں حدیث میں روایت کیاہے کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دونوں کلاموں کو ایك ترتیب (نسق واحد)میں جمع فرمایا پھرنسخ کہاں ہے،چنانچہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع