30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الیہ من ان اخبار الاحاد لاتعارض ماعندھا من القطعی فما وقع من العلامۃ ابی الفرج ابن الجوزی حیث ذکرفی حدیث الشوم فی ثلث،ان عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قد غلظت علی من روی ھذا الحدیث وقالت انما کان اھل الجاھلیۃ یقولون الطیرۃ فی المرأۃ والداروالدابۃ ثم قال وھذا رد لصریح خبررواتہ ثقات الخ کما نقلہ الامام العینی فی عمدۃ القاری[1] منشؤۃ الغفلۃ عن النکتۃ التی ذکرتھا ثم قولہ وقالت انما کان اھل الجاھلیۃ یقولون الخ اقول: ماقالتہ بل رواتہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما ھو صریح نص روایۃ الطحاوی ومن ذکرنا جمیعا وای ثقۃ اوثق منھا رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔ |
کیسے اُڑ کرلگ گیا اور اس کا سبب وہی ہے جس کی طرف ہم اشارہ کرآئے ہیں کہ اخباراحاد اس علم قطعی کاتعارض نہیں کرسکتیں جومائی صاحبہ کے پاس تھا علامہ ابوالفرج ابن جوزی سے(مائی صاحبہ کے متعلق)جو کچھ واقع ہوا اس کامنشاء اس نکتہ سے غفلت ہے جومائی صاحبہ نے ذکر فرمایا(اس کی تفصیل یہ ہے)چنانچہ علامہ ابن جوزی نے ذکرفرمایا کہ حدیث میں تین چیزوں کی نحوست کاذکرآیا ہے:عورت، گھر،چوپایہ۔اور سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے اس پر شدّت اختیار کی جس نے یہ روایت حدیث بیان کی،اور فرمایا کہ اہل جاہلیت یہ کہاکرتے تھے کہ عورت،گھر اور چوپائے میں نحوست ہواکرتی ہے۔پھرابن جوزی نے کہا لیکن یہ تو اس حدیث کا صراحتًا رَد ہے کہ جس کو ثقہ اور مستند راویوں نے روایت کیاہے،جیسا کہ امام عینی نے اس کو نقل فرمایا ہے، پھرعلامہ ابن جوزی کایہ کہنا کہ مائی صاحبہ نے فرمایا اہل جاہلیت کہاکرتے تھے الخ اقول:(میں کہتاہوں)مائی صاحبہ نے خود تو یہ نہیں فرمایا خود حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت فرمائی جیسا کہ وہ روایت طحاوی اور ہمارے ذکرکردہ ان سب لوگوں کی صریح نص ہے۔اور کون سا ثقہ مائی صاحبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے زیادہ ثقاہت رکھتا ہے۔(ت) |
دوم مجذوم وغیرہ سے بھاگنے کی حدیثیں منسوخ ہیں،احادیث نفی عدوٰی نے انہیں نسخ کردیا،عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں امام قاضی عیاض سے منقول:
|
ذھب عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وجماعۃ من |
حضرت عمرفاروق اور سلف کاایك گروہ اس طرف |
[1] عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری بحوالہ ابن الجوزی کتاب الطب باب الطیرۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۷۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع