30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ان الطیرۃ فی المرأۃ والدار والفرس فغضبت غضبا شدیدا وقالت والذی نزل القراٰن علٰی محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماقالھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما قال اھل الجاھلیۃ کانوایتطیرون من ذٰلك رواہ الطحاوی[1] وابن جریر عن قتادۃ عن ابی حسان ورواہ ایضا الحاکم والبیہقی وماذٰلك الا لان العلم عند ھا من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی خلاف ذٰلك فقد قالت کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یبغض الطیرۃ ویکرھھا رواہ الامام الطحاوی[2] وروی ایضا انہ قیل لعائشۃ ان اباھریرۃ یقول لان یمتلی جوف احدکم قیحا خیرلہ من ان یمتلیئ شعرا فقالت یرحم اﷲ اباھریرہ حفظ اول الحدیث |
نہیں سناسکتے۔امام بخاری نے اس کو روایت کیاہے۔(یونہی) جب ام المومنین کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی یہ حدیث پہنچی کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت،گھر اور گھوڑے میں نحوست ہے۔تو آپ بہت زیادہ غضبناك ہوئیں اور فرمایا:اس خدابزرگ وبرتر کی قسم جس نے محمد کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرمقدس قرآن نازل فرمایا کہ حضورپاك نے اس طرح نہیں ارشاد فرمایا بلکہ یوں ارشاد فرمایا کہ دورجاہلیت والے ان چیزوں سے نحوست اور بدشگونی لیتے تھے۔امام طحاوی وابن جریر نے بواسطہ قتادہ بواسطہ ابوحسان اسے روایت کیاہے نیز حاکم اور بیہقی نے اسے روایت کیاہے۔رہایہ کہ ام المومنین ایساکیوں کرتی تھیں،اس کی وجہ یہ تھی کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے انہیں جو یقینی علم حاصل تھا وہ مذکورہ روایتی الفاظ کے خلاف تھا۔بلاشبہہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم بد شگونی اور نحوست کے تصور کو مبغوض خیال فرماتے اور ناپسند کرتے تھے۔امام طحاوی نے اسے روایت فرمایا اور یہ بھی روایت فرمایا کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ سے کہاگیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں تم میں سے کسی کے پیٹ کا پیپ سے بھرجانا بنسبت اشعار سے بھرجانے کے بہترہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع