30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلّی اﷲ تعالٰی علیہ و سلم ان المیت لیعذب ببعض بکاء اھلہ علیہ، یرحم اﷲ عمر لاواﷲ ماحدث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ یعذب المومن ببکاء اھلہ ولکن اﷲ تعالی یزید الکافر عذابا ببکاء اھلہ علیہ وقالت حسبکم القراٰن" وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ"رواہ الشیخان[1] وقالت یغفر اﷲ لابی عبدالرحمٰن ترید ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم فانہ ایضا روی الحدیث کابیہ اما انہ لم یکذب ولکنہ نسی انما مر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی یھودیۃ یبکی علیھا فقال انھم لیبکون علیھا وانھا لتعذب فی قبرھا[2] رویاہ ایضا۔وفی لفظ اَمَ واﷲ ماتحدّثون ھذا الحدیث عن الکاذبین ولکن السمع یخطی وان لکم |
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے یہ روایت فرمائی کہ آپ نے ارشاد فرمایا بعض دفعہ میت پرگھروالوں کے رونے سے اسے عذاب دیاجاتاہے۔مائی صاحبہ نے فرمایا اﷲ تعالٰی عمر(رضی اﷲ تعالٰی عنہ)پررحم فرمائے خدا کی قسم ایسا ہرگز نہیں یہ ارشاد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانہیں کہ گھروالوں کے رونے کی وجہ سے میت کوعذاب ہوتاہے بلکہ حدیث یوں ہے کہ اﷲ تعالٰی کافر کے عذاب میں اضافہ فرمادیتا ہے جبکہ اس کے گھروالے اس پرروئیں۔چنانچہ مائی صاحبہ نے فرمایا اس بارے میں تمہیں قرآن مجید کافی ہے (چنانچہ ارشاد ربانی ہے)کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کابوجھ نہ اٹھائے گی۔بخاری ومسلم نے اسے روایت کیاہے،اور ام المومنین نے ارشاد فرمایا اﷲتعالٰی ابوعبدالرحمن یعنی عبداﷲ ابن عمر کو معاف کرے کہ انہوں نے بھی اپنے والدگرامی کی طرح حدیث روایت کردی۔سن لو انہوں نے جھوٹ نہیں کیا البتہ وہ بھول گئے(اصل واقعہ)یہ تھا کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایك مردہ یہودیہ کے پاس سے گزرے کہ جس پر رویا جارہاتھا آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ اس پرگریہ وبکا کررہے ہیں مگر اس کو قبرمیں عذاب دیاجارہاہے۔بخاری ومسلم دونوں نے اس کو روایت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع