30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لئلا ینظر الیہ اصحابہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیزدرونہ ویرون لانفسھم علیہ فضلا فیدخلھم العجب اولئلا یحزن المجذوم برؤیۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ ومافضلوا بہ فیقل شکرہ علی بلاء اﷲ تعالٰی[1]۔ |
بیعت کرلیاہے۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس جذامی شخص کو لوٹادیا تاکہ حضورعلیہ السلام کے صحابہ کرام اسے دیکھ کرکہیں حقیر اور گھٹیانہ سمجھنے لگیں اور اپنے آپ کو اس پر ترجیح نہ دینے لگیں۔اس طرح ان میں خودبینی پیداہوجائے گی۔حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے صحابہ ذی شان کو اور ان کے فضل وشرف کو دیکھنے سے کہیں جذامی غمگین نہ ہو،پھر اﷲ تعالٰی کی مصیبت اور بلاپر اس کے جذبات شکر میں کمی نہ آجائے۔(ت) |
حدیث ہفتم کہ بچھونا لپیٹنے کو فرمایااقول:(میں کہتاہوں۔ت)ممکن کہ اس لئے فرمایا ہوکہ مریض کے پاؤں سے رطوبت نہ ٹپکے۔
حدیث ہشتم کہ اگرکوئی بیماری اُڑ کر لگتی ہو تو جذام ہے۔"اگر"کالفظ خودبتارہاہے کہ اُڑ کر لگناثابت نہیں۔تیسیرمیں ہے:
|
قولہ ان کان،دلیل علی ان ھذا الامر غیر محقق عندہ [2]اھ اقول:حملہ علی الشك وماکان ینبغی وانّما حقہ ان نقول قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان کان فی شیئ من ادویتکم خیرففی شرطۃ محجم او شربۃ من عسل الحدیث رواہ احمد[3] والشیخان والنسائی عن جابر |
گزشتہ حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد حرف"اِنْ"اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امر آپ کے نزدیك ثابت اور محقق نہیں اھ۔اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اس کو شك پرمحمول کرناہرگز مناسب نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ ہم یوں کہیں کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو!) اگرتمہاری کسی دوا اور علاج میں خیرہو توپچھنے لگوانے اور شہد پینے میں ہے(الحدیث)امام احمد،بخاری،مسلم اور نسائی نے حضرت جابر |
[1] مجمع بحارالانوار حرف الجیم تحت لفظ"جذام"مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۱/ ۳۳۶
[2] تیسیر شرح جامع صغیر تحت حدیث ان کان شیئ من الداء الخ مکتبہ امام شافعی ریاض ۱/ ۳۷۳
[3] صحیح بخاری کتاب الطب باب الدواء بالعسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۴۸،صحیح مسلم کتاب السلام باب لکل داء دواء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع