30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
شیرسے بھاگتاہے"صرف اکیلے بخاری ہی کی طرف مشکوٰۃ میں اس کی نسبت کی گئی ہے۔اسی طرح امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کے ذیل میں لکھاہے اور اسی طرح اپنی جامع کبیر میں ابتداءً امام سیوطی نے فرمایا:درحقیقت اﷲ تعالٰی ہی سب کچھ جانتاہے۔(ت) |
اب بتوفیق اﷲ تعالٰی تحقیق حکم سنئے اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)احادیث قسم ثانی تو اپنے افادہ میں صاف صریح ہیں کہ بیماری اُڑ کر نہیں لگتی،کوئی مرض ایك سے دوسرے کی طرف سرایت نہیں کرتا،کوئی تندرست بیمار کے قریب واختلاط سے بیمارنہیں ہوجاتا،جسے پہلے شروع ہوئی اسے کس کی اُڑ کرلگی۔ان متواتر وروشن وظاہر ارشادات عالیہ کو سن کر یہ خیال کسی طرح گنجائش نہیں پاتاکہ واقع میں تو بیماری اُڑ کر لگتی ہے مگررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کاوسوسہ اٹھانے کے لئے مطلقًا اس کی نفی فرمائی،پھر حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واجلہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی عملی کارروائی مجذوموں کو اپنے ساتھ کھلانا،ان کا جھوٹا پانی پینا،ان کاہاتھ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر برتن میں رکھنا،خاص ان کے کھانے کی جگہ سے نوالہ اُٹھاکرکھانا جہاں منہ لگا کر انھوں نے پیا بالقصد اسی جگہ منہ رکھ کر خود نوش کرنا یہ اور بھی واضح کررہی ہے کہ عدوٰی یعنی ایك کی بیماری دوسرے کو لگ جانا محض خیال باطل ہے ورنہ اپنے آپ کو بلاکے لئے پیش کرنا شرع ہرگزروانہیں رکھتی،
|
قال اﷲ تعالٰی " وَلَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃِۚۖۛ""[1]۔ |
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا)آپ اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ |
رہیں قسم اول کی حدیثیں،وہ اس درجہ عالیہ صحت پرنہیں جس پراحادیث نفی ہیں ان میں اکثرضعیف ہیں جیسا کہ ہم بیان و اشارہ کرآئے اور بعض غایت درجہ حسن ہیں،صرف حدیث اول کی تصحیح ہوسکتی ہے مگروہی حدیث اس سے اعلٰی وجہ پر جو صحیح بخاری میں آئی خود اسی میں ابطال عدوٰی موجود کہ مجذوم سے بھاگو اوربیماری اُڑ کر نہیں لگتی،تویہ حدیث خود واضح فرمارہی ہے کہ بھاگنے کاحکم اس وسوسہ واندیشہ کی بناء پرنہیں،معہٰذا صحت میں اس کا پایہ بھی دیگراحادیث نفی سے گراہواہے کہ اسے امام بخاری نے مسندًا روایت نہ کیا بلکہ بطورتعلیق،
|
حیث قال قال عفان وعفان ھذا |
چنانچہ امام بخاری نے فرمایا عفان نے کہا یہ عفان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع