30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی جامعہ الکبیر بھٰذا اللفظ عازیا لابن جریر عن ابی قلابۃ[1] وفی قسمہ الاوّل بلفظ لاعدوی ولاطیرۃ ولاھامۃ ولاصفر واتقوا المجذوم کما تتقوا الاسد عازیا[2] لسنن البیھقی عن ابی ھریرۃ،و اوردہ فی اول الجامع ایضا بلفظ لاعدوی ولاطیرۃ ولاھامۃ ولا صفروفرمن المجذوم کما تفرمن الاسد عازیا لاحمد[3] والبخاری عن ابی ھریرۃ،وھو کذٰلك فی الجامع الصحیح وبہ ظھر ماقدمنا ان العزو یتبع اللفظ فبالنظر الی حدیث ابی قلابۃ عددناہ بحیالہ ولذا اوردناہ بلفظہ وھو بعینہ لفظ البخاری وان اشتمل علی زیادات لاتوقف لھذا المعنی علیھا،اقول: وابوقلابۃ ھذا ھو عبداﷲ بن زید الجرمی |
اپنی جامع کبیرمیں ابوقلابہ کے حوالہ سے امام ابن جریر کی طرف سے نسبت کرتے ہوئے اس لفظ سے لائے ہیں اور اس کی پہلی قسم میں ان الفاظ سے لائے ہیں"لاعدوی"یعنی کوئی مرض اُڑ کرنہیں لگتا،"ولاھامۃ"نہ اُلّو میں نحوست ہے، "ولاصفر"نہ ماہ صفر کی آمدمیں کوئی نحوست ہے۔جذامی سے اس طرح بچوجس طرح شیروں سے بچتے ہو(یعنی بھاگتے ہو)بواسطہ ابوہریرہ سنن بیہقی کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ نیزجامع کی ابتداء میں امام سیوطی ان الفاظ سے لائے ہیں کسی مرض میں تجاوز نہیں نہ الّو میں نحوست ہے نہ ماہ صفر میں،جذامی سے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔ مسند احمد اور بخاری کی طرف نسبت کرتے ہوئے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے۔اور وہ جامع صحیح میں اسی طرح ہے۔اس سے ظاہر ہوگیا کہ جو کچھ ہم پہلے بیان کرآئے ہیں کہ نسبت کرنی لفظ کے تابع ہوتی ہے پھرابوقلابہ کی حدیث کے پیش نظر ہم نے اس کے مقابل سے اس کا شمار کیاہے اس لئے ہم اسے اسی لفظ سے لائے ہیں اور وہ بعینہٖ بخاری کے الفاظ ہیں اگرچہ وہ کچھ اضافوں پرشامل ہے پس اس معنی کاان پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع