30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال لاعدوی ولاھام ولاصفر ولایحل الممرض علی المصح ولیحلل المصح حیث شاء فقالوا یارسول اﷲ وماذاك فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ اذی[1]،ھکذا رواہ یحیی مرسلا وتابعہ جماعۃ من رواۃ المؤطا وخالفھم القعنبی وعبداﷲ بن یوسف وابومصعب ویحیی بن بکیر فجعلوہ عن ابی عطیۃ عن ابی ھریرۃ موصولا غیران ابن بکیر قال عن ابی عطیۃ ولاخلف فھو عبداﷲ بن عطیۃ الاشجعی ویکنی اباعطیۃ ووھم بعض رواۃ المؤطا فی جعلہ عن ابی عطیۃ عن ابی برزۃ وانما ھو عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما افادہ الزرقانی[2]۔ |
ارشاد فرمایا:کسی مرض میں تعدیہ نہیں(کہ مرض اُڑ کر دوسرے تندرست آدمی کو لگ جائے)اور اُلّو وغیرہ میں نحوست نہیں،ماہ صفر کی آمد میں نحوست نہیں۔بیمار جانور کو تندرست جانور کے پاس نہ لائیں بلکہ تندرست جانور کو جہاں چاہیں لے جائیں۔ لوگوں نے عرض کیا یہ کیوں یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس میں اذیت ہے یعنی لوگوں کو ایذا ہوگی۔ یحیٰی نے بطورارسال(ذکرسند کے بغیر)اس کو روایت کیا اور مؤطا کے راویوں کی جماعت نے اس کی متابعت کی۔ قعنبی،عبداﷲ بن یوسف،ابومصعب اور یحیٰی بن بکیر نے ان کی مخالت کی۔لہٰذا بواسطہ ابن عطیہ حضرت ابوہریرہ کے حوالے سے اسے موصول قراردیا مگریہ کہ ابن بکیر نے ابن عطیہ سے کہا اوراس میں کوئی خلاف نہیں اس لئے کہ وہ عبداﷲ بن عطیہ اشجعی ہے البتہ اس کی کنیت ابو عطیہ ہے،بعض رواۃ مؤطا کو یہ وہم ہوا کہ انہوں نے اس حدیث کو عن ابی عطیہ عن ابی برزہ کی سند سے ذکرکیا حالانکہ یہ حضرت ابوہریرہ کی سند سے مروی ہے(اﷲ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو) علامہ زرقانی نے اس کا افادہ کیا۔(ت) |
یہ حدیث دونوں مضمون کی جامع ہے۔
بتیسویں حدیث:صحیح جلیل کہ ایسا ہی رنگ جامعیت رکھتی ہے صحیح بخاری شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لاعدوی وفرمن الجذوم کما تفر من الاسد[3]،اوردہ الامام الجلیل الجلال السیوطی |
بیماری اُڑ کر نہیں لگتی اور جذامی سے بھاگ جیسا شیر سے بھاگتا ہے۔جلیل القدر امام جلال الدین سیوطی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع