30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی حدیث کے متعدد طرق میں وہ جواب قاطع ہرشك وارتیاب ارشاد ہوا جسے ام المومنین نے اپنے استدلال میں روایت فرمایا صحیحین وسنن ابی داؤد وشرح معانی الآثار امام طحاوی وغیرہا میں حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے جب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ بیماری اُڑ کر نہیں لگتی،ایك بادیہ نشین نے عرض کی:یارسول اﷲ! پھراونٹوں کایہ کیا حال ہے کہ وہ ریتی میں ہوتے ہیں جیسے ہرن یعنی صاف شفاف بدن ایك اُونٹ خارش والاآکر اُن میں داخل ہوتاہے جس سے خارش ہوجاتی ہے۔حضور پرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: فمن اعدی الاول[1] اس پہلے کو کس کی اُڑ کرلگی، احمد و مسلم وابوداؤد،وابن ماجہ کے یہاں حدیث ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے ارشاد فرمایا:ذٰلکم القدر فمن اجرب الاول[2] یہ تقدیری باتیں ہیں بھلا پہلے کو کس نے کھجلی لگادی،یہی ارشاد احادیث مذکورہ عبداﷲ بن مسعود وعبداﷲبن عباس وابوامامہ وعمیربن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں مروی ہوا،حدیث اخیر میں اس توضیح کے ساتھ ہے کہ فرمایا:
|
الم تروا الی البعیر یکون فی الصحراء فیصبح وفی کرکرتہ اوفی مراق بطنہ نکتۃ من جرب لم تکن قبل ذٰلك فمن اعدی الاول[3]۔ |
کیادیکھتے نہیں کہ اونٹ جنگل میں ہوتا ہے یعنی الگ تھلگ کہ اس کے پاس کوئی بیمار اونٹ نہیں صبح کو دیکھو تو اس کے بیچ سینے یا پیٹ کے نرم جگہ میں کھجلی کادانہ موجود ہے بھلا اس پہلے کو کس کی اُڑکرلگ گئی۔ |
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)حاصل ارشاد یہ ہے کہ قطع تسلسل کے لئے ابتداءً بغیردوسرے سے منتقل ہوئے خود اس میں بیماری پیدا ہونے کاماننالازم ہے توحجت قاطعہ سے ثابت ہوا کہ بیماری خودبخود بھی حادث ہوجاتی ہے اور جب یہ مسلم ہے تو دوسرے میں انتقال کے سبب پیداہونا محض وہم علیل وادعائے بے دلیل رہا،جب ایك میں خود پیدا ہوسکتی ہے تو یوہیں ہزار میں:
|
فلایوسوسن العدوالرجیم فی قلب مریض |
مردوددشمن(شیطان)کہیں مریض کے دل میں |
[1] صحیح البخاری باب لاعدوی ۲/ ۸۵۹ و صحیح مسلم باب لاعدوٰی ۲/ ۲۳۰،سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ ۲/ ۱۹۰ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶
[2] کنزالعمال بحوالہ حم وابن ماجہ حدیث ۲۸۵۹۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۱۸ سنن ابن ماجہ ابواب الطب ص۲۶۱
[3] کنزالعمال بحوالہ طب،حل،ك عن عمیر بن سعد حدیث ۲۸۶۱۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۲۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع