30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وروی شعبۃ ھذا الحدیث عن حبیب بن الشھید عن ابن بریدۃ قال ابن عمر اخذ بید مجذوم"وحدیث شعبۃ اشبہ عندی واصح [1]اھ واخرج ابن عدی [2] فی الکامل ھٰذا الحدیث للمفضل المذکور وقال لم ارفی حدیثہ انکر من الحدیث قال ورواہ شعبۃ عن حبیب عن ابن بریدۃ ان عمر اخذ بید مجذوم الحدیث [3]اھ ولم یذکر الذھبی فی المیزان فی المفضل ھذا جرحا مفسرا بل ولاغیر مفسرمما یبلغ درجۃ التضعیف البتۃ انما نقل عن یحٰیی[4]انہ قال لیس ھو بذاك وعن الترمذی[5] ماقدمنا ان المصری اوثق منہ وعن النسائی [6] انہ قال لیس بالقوی۔ اقول: ولا یخفی علیك البون البین بین لیس بالقوی و لیس بقوی وقد روی عنہ ذاك المؤدب الثقۃ الثبت |
محدّث شعبہ نے اس حدیث کو حبیب بن شہید بواسطہ ابن بریدہ روایت کیاہے اور کہاہے کہ حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ایك جذامی کاہاتھ پکڑا،میرے نزدیك محدّث شعبہ کی روایت زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہےاھ۔محدّث ابن عدی نے الکامل میں اس حدیث کو مفضل مذکور کے حوالہ سے اس کی تخریج کی اور کہا ہے کہ میں نے اس سے زیادہ منکر کوئی حدیث نہیں دیکھی،پھر اس نے کہا شعبہ نے حبیب سے بواسطہ ابن بریدہ اس حدیث کو روایت کیاہے کہ حضرت عمرفاروق نے ایك جذامی کاہاتھ پکڑا(الحدیث)اھ،علامہ ذہبی نے المیزان میں اس مفضل کے بارے میں کوئی مفصل یا غیرمفصل جرح ذکرنہیں کی بلاشبہہ جودرجہ تضعیف تك پہنچتی ہے،اور یحیٰی سے نقل کیاگیاکہ اس نے کہا کہ یہ اس درجہ کی حدیث نہیں،امام ترمذی کے حوالے سے ہم پہلے بیان کرآئے ہیں کہ شیخ مصری،شیخ بصری سے زیادہ ثقہ (مستندومعتبر)ہے۔امام نسائی سے مروی ہے کہ وہ قوی نہیں۔ اقول:(میں کہتاہوں کہ)تم پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ لیس بالقوی اور لیس بقوی دونوں میں واضح اور کھلافرق ہے بلا شبہہ اس مؤدب ثقہ مثبت نے اس سے روایت |
[1] جامع الترمذی کتاب الاطعمہ باب ماجاء فی الاکل مع المجذوم امین کمپنی دہلی ۲/ ۴
[2] الکامل لابن عدی ترجمہ مفضل بن فضالہ مصری دارالفکر بیروت ۶/ ۲۴۰۴
[3] میزان الاعتدال للذہبی حدیث ۸۷۳۲ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۹
[4] میزان الاعتدال للذہبی حدیث ۸۷۳۲ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۹
[5] میزان الاعتدال للذہبی حدیث ۸۷۳۲ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۹
[6] میزان الاعتدال للذہبی حدیث ۸۷۳۲ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع