30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مع زیادات معنی۔ |
جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو)عنقریب آئے گی اور جواب یہ ہے کہ نسبت کرنا لفظ کے تابع ہوتاہے خصوصًا جبکہ وہ بخاری میں معنوی اضافہ کے ساتھ مروی ہے۔(ت) |
دوسری حدیث:میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اتقوا صاحب الجذام کما یتقی السبع اذا ھبط وادیا فاھبطوا غیرہ۔رواہ ابن سعد فی الطبقات[1] عن عبد اﷲ بن جعفر الطیار رضی اﷲ تعالٰی عنھما بسند ضعیف۔ |
جذامی سے بچو جیسا درندے سے بچتے ہیں،وہ ایك نالے میں اُترے تو تم دوسرے میں اترو۔(ابن سعد نے ''طبقات'' میں حضرت عبداﷲ بن جعفر طیار رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے سندضعیف کے ساتھ اسے روایت کیاہے۔ت) |
تیسری حدیث:میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
کَلِّمِ المجزوم وبینك وبینہ قدر رمح او رمحین۔ رواہ ابن السنی[2] وابونعیم فی الطب عن عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنھما بسند واہ قلت لکن لہ شاھد یاتی۔ |
مجذوم سے اس طور پر بات کرکہ تجھ میں اس میں ایك دو نیزے کافاصلہ ہو(ابن سنی اور ابونعیم نے باب طب میں حضرت عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے کمزورسند کے ساتھ روایت کیاہے۔میں کہتاہوں کہ اس کے لئے شاہد(تائیدکنندہ)آگے آئے گا۔ت) |
چوتھی حدیث:میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لاتدیموا النظر الی المجذومین۔رواہ ابن ماجۃ[3] و ابن جریر قلت وسندہ حسن صالح۔ |
مجذوموں کی طرف نگاہ جماکرنہ دیکھو(ابن ماجہ اور ابن جریر نے اسے روایت کیا ہے۔میں کہتاہوں کہ اس کی سند صالح ہے۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع