30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تقدیرالٰہی سے تقدیرالٰہی کی طرف بھاگتے ہیں۔حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ کسی کام کو گئے ہوئے تھے جب واپس آئے انہوں نے کہا مجھے اس مسئلہ کے حکم کا علم ہے میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوفرماتے سنا:
|
اذا سمعتم بہ بارض فلاتقدموا علیہ واذا وقع بارض وانتم بھا فلاتخرجوا فرارامنہ۔ |
جب تم کسی زمین میں طاعون ہوناسنو تو وہاں طاعون کے سامنے نہ جاؤ اور جب تمہاری جگہ واقع ہو تو اس سے بھاگنے کو نہ نکلو۔ |
اس پر امیرالمومنین حمدالٰہی بجالائے کہ ان کا اجتہاد موافق ارشاد واقع ہوا اور واپس ہوگئے[1]۔ایسی جگہ نفرمن قدراﷲ الٰی قدراﷲ کہناٹھیك ہے کہ موافق حکم ہے،طاعون سے بھاگنا فسق ہے بھاگنے والوں سے فاسقوں کاسابرتاؤ چاہئے،بدعت بمعنی بدمذہبی نہیں،ہاں اگر احادیث صحیحہ مشہورہ میں ارشاد اقدس حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم معلوم ہے اور انہیں رَدکرتااور اپنی نامرادی وبزدلی کے حکم کو اُن پر ترجیح دیتاہے تو ضروربدمذہب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۷۶: ازشہر جبلپور محلہ کوتوالی مسئولہ حکیم عبدالرحیم صاحب ۹رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم،حامداومصلیا ومسلما،ایك طبیب جس نے علم طب باقاعدہ حاصل کیاہے اور نظری وعملی طریقہ مروجہ سے پوری تکمیل کرچکاہے مگر ان وجوہات سے اپنے پیشے سے ہمیشہ دل برداشتہ اورمتفکر اور وبال اُخروی سے خائف رہتاہے کہ دقائق وجزئیات فن کا ہمیشہ بالکلیہ مستحضر فی الذہن رہنا مشکل بلکہ غیرممکن ہے اور جب یہ نہیں تو تشخیص کاصحیح نہ ہونا معلوم۔نیز چونکہ یہ فن ظنی ہے اور ظن غالب وگمان راجح پرعلاج ہوتاہے اگرچہ بتائید حکیم مطلق جل وعلا اکثر تشخیص مطابق واقع ہوتی ہے تاہم غلطی کااندیشہ لگارہتاہے کیونکہ مجربین کامقولہ ہے العلاج رمی السھم فی الظلمات(علاج اندھیروں میں تیراندازی ہے۔ت)نیزعقل،حافظہ،استحضار ذہانت طباعی بلکہ جو آلات تشخیص مرض ہیں حسب قوائے دماغی مختلف ہیں اسی وجہ سے مریض واحد کی تشخیص میں اطبائے متعدد متحدالرائے بہت کم دیکھے جاتے ہیں اگرچہ سب اپنی تشخیص کو صحیح سمجھے ہوئے ہیں مگر فی الواقع کسی ایك ہی کی رائے صحیح ہوگی اور کبھی طبیب علاج کے غیرمفیدپڑنے سے اپنی خطا فی التشخیص سے واقف ہوکر سنبھل جاتاہے اور علاج میں فورًا ترمیم کردیتاہے مگرکبھی اتنے پربھی اس کو یہ معالجہ اسی علاج پربرقرار رکھتاہے کہ تیری تشخیص اور علاج دونوں صحیح ہیں مگرخدا کی طرف سے ابھی صحت کا وقت نہیں آیاہے،اس کے علاوہ بھی اور بہت سے وجوہات ہیں جن کے سبب سے وہ اپنے پیشہ طبابت سے تنگ ہے،اس صورت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع