30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قطرات او تیزمی کنند کہ درفلاں شراب در نودہ قطرہ یك قطرہ اسپرٹ است ودرفلاں در صدقطرہ یك قطرہ،ہمہ شرابہا بآشامیدن نشہ آرد وایں بمجرد شمیدن کہ بوئے اومسکرست لا جرم ہمچو جملہ خمورہم حرام ست وہم نجس ہردوائیکہ درو آمیزش اوباشد بریدن طلائے او کردن یك حرام ست ونو شیدن دوحرام بلکہ اوسہ حرام فراہم کردن حرام خرید نش حرام برداشتنش حرام وبدن باو آلودنش حرام واینجا حرام چہارم خوردن،سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم درشراب،دہ کس رالعنت فرمودہ است از انان فروشندہ وخریدہ وبردہ اندہ وآنکہ بہ سوئے اوبرداشتہ شود بالجملہ ہرکہ بہیچ گونہ باوتلبس دارد بحرام وخبیث تلوث دہ وہرکہ مسلمان را ازمن بلاباز دارد برائے اواجرصدشہیدست قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من تمسك بسنتی عند فساد امتی فلہ اجر مائۃ شھید[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
سب میں اس کے قطروں کی ملاوٹ انہیں تیز کرنے کے لئے کی جاتی ہے کہ فلاں شراب کے نودس قطروں میں ایك قطرہ اسپرٹ ہے،اور فلاں شراب کے سو قطروں میں ایك قطرہ اسپرٹ کی ملاوٹ ہے۔اور سب شرابیں پینے سے نشہ لاتی ہیں، اور یہ صرف سونگھنے سے نشہ لاتی ہے اس لئے کہ اس کی"بُو" نشہ آور ہے۔بلاشبہہ تمام شرابوں کی طرح یہ حرام ہونے کے علاوہ ناپاك بھی ہے لہٰذا جس دوائی میں اس کی ملاوٹ ہو اس کا جسم پر ملناپہلا حرام ہے اور پینادوسراحرام بلکہ تیسراحرام ہے۔اس کاحاصل کرنا حرام۔اس کا خریدنا،اٹھانا اور جسم کو اس سے آلودہ کرنایہ سب کام حرام ہیں۔اور یہاں چوتھا حرام اسے پینا ہے۔سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے شراب کے دس افراد پر لعنت فرمائی ان میں سے یہ لوگ ہیں (۱)فروخت کرنے والا(۲) خریدنے والا(۳)اٹھانے والا(۴) وہ جس تك اٹھاکر لے جائے۔ حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی طرح بھی اس سے وابستہ ہو وہ ایك حرام اور ناپاك چیز سے آلودگی رکھتاہے۔اور جوکوئی کسی مسلمان کو اس مصیبت سے چھڑائے اور اسے روکے اسے سو شہیدوں کا اجرو ثواب ہے۔ چنانچہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس خوش نصیب نے میری سنت کو اس وقت تھاما کہ جب میری امت میں فساد پھیل گیا تو اسے سوشہیدوں کاثواب عطا ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
[1] مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۰،الترغیب والترہیب الترغیب فی اتباع الکتاب والسنۃ حدیث ۵ مصطفی البابی مصر ۱/ ۸۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع