30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴)بالغوں کے ساتھ نابالغوں کی نماز بھی ہوسکتی ہے۔
دونوں دعائیں پڑھی جائیں،پہلے بالغوں کی پھرنابالغوں کی۔اور بہرحال اگر دقّت نہ ہو تو ہرجنازے پرجدا نمازبہترہے۔ درمختار میں ہے:
|
اذا اجتمعت الجنائز فافراد الصلٰوۃ علی کل واحدۃ اولٰی وان جمع جاز وراعی الترتیب المعھود خلفہ الرجل مما یلیہ فالصبی فالبالغۃ فالمراھقۃ [1]ملتقطا۔ |
جب متعدد جنازے(میّت)جمع ہوجائیں یعنی وہ لائے جائیں تو ہرایك پرالگ الگ نماز پڑھنی بہترہے۔اور اگر سب پراکٹھی نماز پڑھ لے تو یہ بھی جائزہے۔لیکن صفوف کی ترتیب میں مقرر متعارف کی رعایت کرے(اور وہ یہ ہے کہ)امام کے متصل اس کے پیچھے بالغ مرد ہوں پھر نابالغ بچے پھر بالغہ عورتیں اور ازیں بعد قریب البلوغ لڑکیاں ہو ں بیوہ پر موت شوہر کی عدت ضروری ہے اگرچہ وہ خود ایك دن کی بچی اور اس کا شوہربھی کہ مرگیا ایك دن کا بچہ ہو۔ |
درمختار میں ہے:
|
العدۃ للموت اربعۃ اشھر وعشر مطلقا وطئت اولا ولو صغیرۃ وفی حق الحامل مطلقا وضع حملھا ولوکان زوجھا المیت صغیرا[2]۔ |
عدّتِ وفات چارمہینے اور دس دن علی الاطلاق بغیر کسی قید کے،خواہ ہمبستری ہوئی ہو یا نہ،اگرچہ چھوٹی بچی ہو۔حاملہ کی عدت علی الاطلاق وضع حمل ہے اگرچہ مرنے والا اس کا زوج چھوٹا ہو(ت) |
چارمہینے دس دن عدت کرے گی۔
(۵)مرد اپنی زوجہ کا جنازہ اٹھاسکتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۷۱: ازگونڈل کاٹھیاواڑ۔مرسلہ عبدالستار بن اسمٰعیل سنّی حنفی قادری ۲۲شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنّت خصوصًا امام اہلسنّت مجدّد مأتہ حاضرہ صاحب حجت قاہرہ محی الاسلام والمسلمین مولانا مفتی قاری شاہ محمداحمد رضاخان صاحب مدظلہ،اس مسئلہ میں ایك شخص مسلمان یا غیرمسلمان ایك حکیم یاغیرحکیم کے پاس اس لئے آیا کہ اس کے کسی رشتہ دار عورت کے کسی طور سے حمل رہ گیا حمل کے ظاہرہونے سے اس عورت نیزخویش واقارب کی سخت بے عزتی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع