30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقصود نہیں بلکہ محض اپنے آرام ویکجائی کے لئے بلاشبہہ اجازت ہے بشرطیکہ زوجہ اور بالغ بچوں کو خوب سمجھادے کہ یہ انتقال طاعون سے بچنے کے لئے نہیں نہ تم کہیں بھاگ کرموت سے بچ سکتے ہو میراارادہ قطعی پہلے سے تمہیں بلانے کا تھا بلکہ طاعون کی وجہ سے اتنی دیر کی شاید تمہارا لے جانا ناجائزہو اب کے معلوم ہوا کہ خالص نیت سے لےجانے میں شرعًا حرج نہیں تمہیں اسی طرح لے جاتاہوں جیسا کہ طاعون نہ ہونے کی حالت میں لیجانا،تم پربھی فرض ہے کہ اپنی نیت صحیح کرو طاعون کا خیال دل میں ہرگز نہ لاؤ جس سے یہ ظاہرہوگا کہ بوجہ خوف طاعون اس منتقل ہونے کو غنیمت جانے گا میں اسے یہیں چھوڑدوں گا یہاں تك کہ اﷲ عزوجل جس کا ہرجگہ حکم نافذ ہے اپناجوحکم چاہے نافذ فرمائے،جب یہ تعلیم وتلقین کرے اور ظاہر ہوکہ یہ سچا عقیدہ ان کے دلوں میں جم گیا اور شیطانی خیال نہ رہا اس وقت بے تکلف وہاں سے آئے،اس تعلیم میں سمجھ والے بچوں کو بھی شریك کرے اگرچہ بالغ نہ ہوں کہ تعلیم حق کے وہ بھی محتاج ہیں،حق سبحٰنہ ہرجگہ مسلمانوں کو عافیت بخشے اور اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین۔واﷲ تعالٰی علم۔
مسئلہ ۶۲: ازامروہہ ضلع مرادآباد مرسلہ حکیم ظہوراحمد صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ڈاکٹری دواسیال جس میں شرا ب کاجُز ہو حکیم مریض کو استعمال کرائے جائزہے یاناجائز؟ حکیم پرگناہ ہے یانہیں؟ یاایسی ڈاکٹری دوا کہ جس میں شراب کا جُز تو نہیں مگر وہ ایسی تیارکی گئی ہے کہ جیسے عطربغیر روغن صندل کے تیارنہیں ہوتا۔برانڈی کا استعمال مریض کو جائز یاناجائز؟ خشك دواشیشی یامحذر کااستعمال مریض کوجائزہے یانہیں؟ علمائے دیوبند ادویہ ڈاکٹری کااستعمال ممنوع فرماتے ہیں۔اگرجوابی کارڈ کافی نہ ہو براہ عنایت بیرنگ لفافہ پرجواب عنایت فرمائیے اﷲ تعالٰی آپ کو اس کا اجرخیرعطافرمائے گا بیّنواتوجروا۔
الجواب:
شراب کسی قسم کی ہو مطلقًا حرام بھی ہے اور پیشاب کی طرح نجس بھی۔برانڈی ہو خواہ اسپرٹ خواہ کوئی بلا،جس دوا میں اس کا جز ہو خواہ کسی طرح اس کی آمیزش ہو اس کاکھانا پینا بھی حرام،اس کا لگانا بھی حرام،اس کا بیچنا خریدنا بھی حرام،طبیب کہ اس کا استعمال بتائے مبتلائے گناہ و آثام۔یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح ومعتمد ہے۔ہاں افیون بھنگ وغیرہ خشك چیزیں کہ نشہ لاتی یاتحذیر وتفتیر کرتی ہیں اُن کا نشہ حرام ہے اور وہ خود ناپاك نہیں تو اُن کا لگانا مطلقًا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع