30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ومن صبرفیہ کان لہ اجر شھید[1]۔ |
کفار کو پیٹھ دے کر بھاگنے والا،اور جو اس میں صبر کئے بیٹھارہے اس کے لئے شہیدکاثواب ہے۔ |
اور جہاد سے بھاگنے والے کو اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
" فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ وَمَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَبِئْسَ الْمَصِیۡرُ ﴿۱۶﴾" [2]۔ |
وہ بیشك اﷲ کے غضب میں پڑا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا بری بازگشت ہے۔ |
توثابت ہوا کہ طاعون سے بھاگنے والا اﷲ کے غضب میں جاتاہے اورجہنم اس کا ٹھکاناہے اسی کوفرمایا کہ:
|
" وَلَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃِۚۖۛ "[3] |
اپنے ہاتھوں ہلاکت وغضب خدا اور استحقاق جہنم میں نہ پڑو۔ |
اب بتائیے کہ طاعون سے بھاگنا"تہلکہ"ہے یااپنے رب عزوجل پرتوکل کرکے صابرومقیم رہنا۔اﷲ تعالٰی توفیق دے کہ احکام محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اپنے ہوائے نفس سے رد نہ کیاجائے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(گناہ سے بچنے او رنیکی کی قوت وطاقت کسی میں نہیں بجزاﷲ تعالٰی بلندمرتبہ اور عظیم الشان کی توفیق کے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۱: ۱۷محرم الحرام ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید رہنے والا بدایوں کا ہے اور بریلی میں انگریزی ملازم ہے،بدایوں سے اپنے عیال واطفال کولانے کامصمم ارادہ کرلیا تھا کہ اس عرصہ میں بدایوں میں طاعون شروع ہوگیا،اس وجہ سے نہ لاسکا،اگرشریعت اجازت دے تو زید اپنے متعلقین کو لاکر دنیوی تفکّرات اور دوہرے خرچ سے نجات پائے۔
الجواب:
اﷲ عزوجل دل کے خطروں کو جانتاہے اگرواقعی بخوف طاعون وہاں سے ان کا منتقل کرنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع