30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقدقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من کذب علیّ متعمدا فلیتبوّأ مقعدہ من النّار[1]۔ |
بیشك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے عمدًا مجھ پر جھوٹ کہا اسے اپنا ٹھکانا دوزخ میں سمجھ لینا چاہئے۔(ت) |
سکن الشجون کیاچیزہے اس کا مصنف کون ہے،کشف الظنون تك تو اس کا پتا نہیں کوئی حال کاجاہل مجہول ہوتو ہواکرے،القاء بالایدی الی التھلکۃ(ہاتھوں کوہلاکت میں ڈالنا۔ت)کیاہے محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے احکام کو نہ ماننا،ورنہ یہ آیت تحریم جہاد کے لئے عمدہ دستاویز ہوجائے گی،جو تہبلکہ چمکتی تلواروں اور برستے تیروں او رتوپ کے متواتر گولوں کے سامنے ہے طاعون میں اس کا عشرعشیر بھی نہیں توجہاداکبر سے زائد حرام ہوگا اور جہاد سے بھاگنا فرض حالانکہ قرآن نے اس کا عکس فرمایا ہے قرآن عظیم ترك جہاد وفرارعن الجہاد ہی کوتہبلکہ فرماتا ہے جسے یہ عبدۃ الہوی ہلاك سمجھیں وہ نجات ہے اور جسے نجات سمجھ رہے ہیں وہ ہلاك ہے۔ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:"کریمہ لاتلقوا"ہم انصار میں اتری کہ جب دین متین کو اﷲ عزوجل نے عزت بخشی اور اسلام پھیل گیا ہم نے کہا اب جہاد کی کیاضرورت ہے اب خانگی امور جو اتنے روزوں سے خراب پڑے ہیں بنالیں اس پرارشاد ہوا:
|
وانفقوا فی سبیل اﷲ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ[2]" |
اپنی جان اور مال جہاد میں خرچ کرو اور ترك جہاد کرکے اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔(ت) |
معالم شریف میں ہے:
|
فالتھلکۃ الاقامۃ فی الاھل والمال وترك الجھاد[3]۔ |
"التہلکہ"اہل ومال سے وابستہ رہنا اور جہاد کے لئے نہ نکلنا ہے۔(ت) |
امام اجل احمدبن حنبل مسندمیں جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
الفار من الطاعون کالفارمن الزحف |
طاعون سے بھاگنے والا ایساہے جیسے جہاد میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع