30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقد ثبت حدیث من تصبح بسبع تمرات عجوۃ لم یضرہ ذٰلك الیوم سمّ ولاسحر وللنسائی فی قرأۃ الفاتحۃ علی المصاب سبع مرات وسندہ صحیح ولمسلم القول لمن بہ وجع اعوذ بعزۃ اﷲ وقدرتہ من شرما اجدواحاذر سبع مرات وفی النسائی من قال عند مریض لم یحضر اجلہ اسأل اﷲ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیك سبع مرات[1]۔ |
حدیث پاك سے ثابت ہے کہ جو کوئی صبح سویرے سات عجوہ کھجوریں کھالے تو اسے اس دن زہر اور جادو سے نقصان نہیں پہنچے گا۔نسائی شریف میں ہے کہ مصیبت زدہ پرسات مرتبہ فاتحہ پڑھی جائے،اس کی سند صحیح ہے۔مسلم شریف میں ہے کہ جس کو درد کاعارضہ ہو اس پریہ کلمات سات مرتبہ پڑھے جائیں: اَعُوْذُ بِعِزَّۃِ اﷲِ وَقُدْرَتِہٖ مِنْ شَرِّمَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ یعنی اﷲ تعالٰی کی عزت اور اس کی قدرت سے پناہ لیتاہوں اس کے شر سے جس کو میں پاتا ہوں اور اس سے ڈرتاہوں(چوکنّا رہتا ہوں)سنن نسائی شریف میں ہے کہ جو کوئی ایسے مریض کے پاس،جس کی موت مقدرنہ ہو،ان الفاظ سے سات دفعہ دعاکرے تو وہ صحت یاب ہوجائے گا، کلمات یہ ہیں:اسأل اﷲ العظیم ربّ العرش العظیم ان یشفیك یعنی میں اﷲ عظمت والے سے سوال کرتاہوں جو بڑے عرش کامالك ہے کہ وہ تجھے شفا عطافرمائے(ت) |
جماعت میں برکت ہے اور دعائے مجمع مسلمین اقرب بقبول،علما فرماتے ہیں جہاں چالیس مسلمان صالح جمع ہوتے ہیں ان میں ایك ولی اﷲ ضرورہوتاہے۔حدیث میں ہے:
|
اذا شھدت امۃ من الامم وھم اربعون فصاعدا اجاز اﷲ تعالٰی شھادتھم رواہ الطبرانی فی الکبیر[2] والضیاء المقدسی عن والد ابی الملیح۔ |
جب کوئی جماعت حاضر ہو اور چالیس افراد یا اس سے زیادہ ہوں تو اﷲ تعالٰی ان کی شہادت کو جائز قراردیتا ہے۔امام طبرانی نے معجم کبیرمیں اور ضیاء مقدسی نے ابوالملیح کے والد کے حوالے سے اس کو روایت کیاہے۔(ت) |
تیسیر شرح جامع صغیر میں فرمایا:
|
قیل وحکمۃ الاربعین انہ لم یجتمع |
کہاگیاہے کہ چالیس کے عدد میں حکمت یہ ہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع