30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عمرو بن العاص وکابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔ |
ثواب ہے(بخاری ومسلم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے اور امام احمد نے ابن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور ابن ماجہ نے سراقہ بن مالك رضی اﷲ عنہ سے روایت کیاہے۔ت) |
اور اگر مرض سے کوئی ایذا نہیں صرف موانع زنا سے ہے جس کے سبب اس کا معالجہ ایك زانیہ عورت کے لئے کوئی نفع رسانی نہ ہوگا بلکہ زنا کاراستہ صاف کرے گا مثلًا عارضہ رتق یاشدّت وسعت(نہ بوجہ سیلان رطوبت)کہ فی نفسہٖ موذی نہیں مگر اس کا اشتہاء باعث سردی بازار زنان زناکار ہے ایسے معالجہ کو جب کہ امورمذکورہ پرطبیب مطلع ہو اگرچہ برقیاس قول صاحبین من وجہ اعانت کہہ سکیں مگرمذہب امام رضی اﷲ عنہ پریہ بھی داخل ممانعت نہیں کہ یہ تو پاك نیت سے صرف اس کاعلاج کرتا ہے گناہ کرنانہ کرنا اس کا اپنا فعل ہے جیسے راج کاگرجایاشوالہ بنانا یامکان رنڈی زانیہ کو کرایہ پردینا،
|
فی الخانیۃ لوآجر نفسہ یعمل فی الکنیسۃ ویعمر ھالاباس بہ لانہ لامعصیۃ فی عین العمل[1]۔ |
فتاوٰی قاضیخان میں ہے کہ اگرکوئی مزدورگرجے کی تعمیر اور آبادی کے لئے کام کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ نفس عمل میں کوئی گناہ نہیں۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
من آجربیتالیتخذ فیہ بیت ناراوکنیسۃ اوبیعۃ اویباع فیہ الخمر بالسواد فلاباس بہ وھذا عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی[2]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگرکوئی شخص کرائے پرمکان دے اور وہاں آتشکدہ،گرجایا کلیسا بنادیاجائے یاوہاں سے عام لوگوں پر شراب فروخت ہونے لگے تو حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیك اس میں کرائے پرمکان دینے والے کے لئے کوئی حرج نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۵۷: ازکلکتہ بتوسط قاضی عبدالوحید صاحب عظیم آبادی منتظم تحفہ حنفِیہ ۱۴رجب ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں حضرات علماء دین وحامیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فی زماننا شہرکلکتہ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع