30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کے ساتھ شریك عذاب ہوں گے او شك ان یعمھم اﷲ بعقاب منہ(قریب ہے کہ اﷲ تعالٰی انہیں اس کے عذاب میں شامل اور شریك فرمائے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۲: جبلپور متصل کوتوالی بساطی بازار مرسلہ عبدالسبحان سوداگر مورخہ ۱۴ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگرہندو لوگ مساجد کے سامنے سے باجابجاتے ہوئے گزرے تو ان کو روکناچاہئے یانہیں؟ اور اگر روکنے میں سرکاری جرم ہو تو ایسی حالت میں مسلمانوں کوکیاکرناچاہئے؟ سرکاری طور سے ہندؤوں کو یہ حکم دیاگیاہے کہ صرف جماعت کے وقتوں میں مساجد کے سامنے باجانہ بجے اور دیگراوقات میں برابر بج سکتاہے اور دیگر اوقات میں اگرکوئی ان کو روکے توسزاکامستحق ہوگا،چنانچہ چندآدمیوں کو چھ چھ ماہ کہ سزائے قید بھی ہوچکی ہے۔یہ تو گورنمنٹی حکم ہوگیا اور اب ہندو یہ چاہتے ہیں کہ مصالحت ہوجاناچاہئے اس شرط پرکہ ہم سال بھر میں صرف پانچ یاسات دن کے لئے یعنی جو ہمارے تہوار ہیں اس میں باجا بجائیں گے مگراوقات نمازچھوڑ کر اور سال بھر تك کسی وقت باجا نہ بجائیں گے، اب ایسی حالت میں ہم مسلمانوں کوکیاکرناچاہئے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
ایسی حالت میں فورًا اس مصالحت کو قبول کرناواجب ہے کہ اس میں اسلام کا نفع کثیرہے وہ پانچ سات دن کے استثناء سے تمام سال کے لئے احتراز تام کاوعدہ کرتے ہیں یہ گورنمنٹی فیصلہ سے صدہادرجہ اسلام کے لئے نافع ترہے۔فیصلہ میں مسلمانوں کی طرف سے یہ الفاظ ہوں کہ اوقات جماعت میں ہندو کبھی باجا نہ بجائیں گے اور غیراوقات جماعت میں بھی پانچ سات دن معین کے سوا مساجد کے قریب باجابجانے سے ہمیشہ احتراز رکھیں گے،یہ الفاظ نہ ہوں کہ ان معین دنوں میں غیراوقات جماعت میں بجانے پرہم راضی ہیں یااجازت دیتے ہیں اگرچہ حاصل ایك ہی ہے مگر اس عبارت میں معصیت کی اجازت ہے اور معصیت کی اجازت معصیت سے بڑھ کر معصیت ہے اور اس عبارت میں بوجہ استثناء مستثنٰی حکم سکوت میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۳: ازفیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
اگرمسلمان ہو،پابندصوم وصلوٰۃ کاہو،کسی پیرمولوی کے یہاں نالشی ہو کہ ہمارا معاملہ طے کردو جو ان کے امکان میں ہے اور وہ طے نہ کریں اور نہ سنیں جس کی وجہ سے برباد ہورہاہو۔
الجواب:
یہ بھی محتاج تفصیل ہے کیامعاملہ،اور پیرمولوی پرکتنا اختیار،اور کیوں نہ کیا۔واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع