30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" حُمُرٌ مُّسْتَنۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۵۰﴾ فَرَّتْ مِنۡ قَسْوَرَۃٍ ﴿ؕ۵۱﴾ "[1] |
بھڑکے ہوئے گدھے ہیں کہ شیر سے بھاگے ہیں۔ |
وعظ سے روگردانی تو شیر سے گدھے کابھڑکنا ٹھہرے اس پر غل مچاناگالیاں بکنا کیاچاند پرکتوں کابھونکنانہ ہوگا۔وعظ تو وعظ کہ وہ بنص صریح قرآن مجید فرض مذہبی ہے کتب دینیہ میں تصریح ہے کہ ہرخطبے حتی کہ خطبہ نکاح وخطبہ ختم قرآن کاسننا بھی فرض ہے اور ان میں غل کرنا حرام حالانکہ خطبہ نکاح صرف سنت ہے اور خطبہ ختم نرا مستحب۔درمختار میں آیا ہے:
|
کذا یجب الاستماع لسائر الخطب کخطبۃ نکاح و خطبۃ عیدوختم علی المعتمد[2]۔ |
اسی طرح معتمد قول کے مطابق تمام خطبات کاسننا واجب ہے مثلًا خطبہ جمعہ،عیدین،نکاح اور ختم قرآن وغیرہ۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ وختم ای ختم القراٰن کقولھم الحمدﷲ رب العٰلمین حمد الصابرین[3]۔الخ |
صاحب درمختار کاقول وَخَتْمٍ سے مراد ختم قرآن ہے جیسے اس موقع پر ان کاکہنا ہے الحمدﷲ رب العٰلمین حمد الصابرین یعنی تعریف اس خدا کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ایسی تعریف جو صبرکرنے والوں کی تعریف جیسی ہو۔(ت) |
طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں انواع کلام ممنوع میں ہے:
|
النوع الثانی والخمسون قطع کلام الغیر من غیر ضرورۃ خصوصا اذا کان فی مذاکرۃ العلم) الشرعی (وقدمر ان السلام علیہ)ای علی الجالس لمذاکرۃ العلم(اثم)لما فیہ من قطع الخیر وایذاء المسلم المتکلم والسامع(وکذا تکلم |
یعنی کلام کا نوع پنجاہ ودوم بے ضرورت شرعیہ دوسرے کی بات کاٹنا ہے جبکہ وہ علم شرعی کے ذکرمیں ہو،اور اوپر گزرچکا کہ اس پر اس وقت سلام کرنا بھی گناہ ہے کہ اس میں اسی نیك کلام کاقطع کرنا او رقائل اور سامعین مسلمانوں کو ایذا دیناہے یوہیں جومجلس وعظ میں بیٹھا ہو اسے بھی بات کرناگناہ ہے اگرچہ آہستہ ہی ہو اسی طرح |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع