30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
احد فلابأس بان ینھی عن ذٰلك وھو مجاھد ولوعلم انھم لایقبلون منہ ولایخاف منہ ضربا ولاشتما فھو بالخیار والامرافضل[1]۔ |
صورت حال میں بھی امربالمعروف کاترك کردینا افضل ہے۔اور اگر اسے معلوم ہے کہ لوگ مشتعل ہوکر اسے اذیّت پہنچائیں گے مگر وہ صبر کرلے گا اور سختی برداشت کرلے گا اور کسی سے شکوہ شکایت نہیں کرے گا توپھر امربالمعروف اور نہی عن المنکر پرعمل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ ایسی صورت حال میں اس کا عمل ایك مجاہد کاساعمل متصورہوگا،اور اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ لوگ اس کی بات تونہیں مانیں گے البتہ کسی سخت رَدِّ عمل کااظہار بھی نہیں ہوگا(یعنی نہ ماننے کے باوجود مارپٹائی اور گالی گلوچ سے کام نہیں لیں گے)تو اس صورت میں اسے اختیارہے کہ امر بالمعروف سے کام لے یانہ لے البتہ یہاں امربالمعروف افضل ہے۔(ت) |
لیکن پیری مریدی اگردل سے ہے تو وہاں ایسی صورت کاپیداہونا جس میں امرونہی منجر بضرر ہوں ظاہرًا نادرہے ایسے متبوعوں مقتداؤں پر اس فرض اہم کی اقامت بقدرقدرت ضرورلازم،اور اسی میں ادنٰی اتباع کے حق سے اداہونا ہے جوباوصف قدرت وعدم مضرت ان کے سیاہ وسپید سے کچھ مطلب نہ رکھے بلکہ ہرحال میں خوش گزر ان کی ٹھہرائی خواہ یوں کہ خود ہی احکام شرعیہ کی پروانہ رکھتا ہو جیسے آج کل کے بہت آزاد متصوّف یاکسی دنیوی لحاظ سے پابندی شرع کو نہ کہتاہو جیسے درصورت امرونہی اپنے پلاؤ وقورمے یاآؤ بھگت پرخائف تویہ ضرور پیرغوایت ہے نہ کہ شیخ ہدایت۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
جواب سوال پنجم:
ہنود قطعًا بت پرست مشرك ہیں وہ یقینا بتوں کو سجدہ عبادت کرتے ہیں اور بالفرض نہ بھی ہو تو بتوں کی ایسی تعظیم پربھی ضرور حکم کفرہے اورانہیں بارگاہ عزت میں شفیع جاننا بھی کفر،ان سے شفاعت چاہنا بھی کفر کہ قطعًا اجماعًا یہ افعال واقوال کسی مسلم سے صادرنہیں ہوتے،نہ کوئی مسلمان بلکہ کوئی اہل ملّت بت کی نسبت ایسا اعتقاد رکھے اور اس میں صراحۃً تکذیب قرآن و مضادت رحمن ہے۔شرح فقہ اکبر میں ہے:
|
قال ابن الھمام وبالجملۃ فقد ضم الی |
محقق ابن الہمام نے فرمایا حاصل یہ ہے کہ وجود ایمان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع