30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعلق رکھتی ہیں کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہیں،اور اﷲ تعالٰی سب کچھ خوب جانتاہے۔(ت)
جواب سوا ل چہارم :
امربالمعروف ونہی عن المنکر ضرور بنصوص قاطعہ قرآنیہ اہم فرائض دینیہ سے ہے اور بحال وجوب اس کا تارك آثم وعاصی،اور ان نافرمانوں کی طرح خود بھی مستحق عذاب دنیوی واُخروی۔احادیث کثیرہ اس معنی پرناطق ہیں اور اہلسنّت وغیرھم کا واقعہ خود قرآن عظیم میں مذکور۔قال اﷲ تعالٰی:
|
" لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیۡسَی ابْنِ مَرْیَمَ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعْتَدُوۡنَ ﴿۷۸﴾[1] کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوْنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئْسَ مَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾[2] |
بنی اسرائیل کے کافروں پرلعنت پڑی داؤد و عیسٰی بن مریم کی زبان سے،یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا برے کام سے،ایك دوسرے کو منع نہ کرتے تھے ضرور ان کا یہ فعل سخت براتھا۔ |
اصحاب سبت پر داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا کی:الٰہی! انہیں لعنت کر اور لوگوں کے لئے نشانی بنادے۔بندرہوگئے۔اہل مائدہ پرعیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہی دعا کی،سورہوگئے،والعیاذباﷲ رب العالمین۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
کلا واﷲ لتأمرن بالمعروف ولتنھون عن المنکر او لیضربن اﷲ بقلوب بعضکم علٰی بعض ثم لیلعننکم کما لعنھم۔رواہ [3] ابوداؤد عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ھذا مختصر۔ |
یوں نہیں،خدا کی قسم یا تو تم ضرور امربالمعروف کروگے اور ضرورنہی عن المنکر کروگے یاضروراﷲ تعالٰی تمہارے دل آپس میں ایك دوسرے پر مارے گا پھر تم سب پر اپنی لعنت اتارے گا جیسی ان بنی اسرائیل پر۔(امام ابوداؤد نے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے اسے روایت کیاہے،یہ مختصر ہے۔(ت) |
مگریہ امرونہی نہ ہرشخص پرفرض نہ ہرحال میں واجب،توبحال عدم وجوب اس کے ترك پریہ احکام نہیں بلکہ بعض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع