30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالجملہ ائمہ عارفین وارثان انبیاء ومرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام اجمعین ضرور ان بہتانوں سے منزّہ ہیں،حکایت بے سروپا رطب ویابس بے سند معتمد قابل قبول نہیں نہ خلاف بعض مذہب جمہور خصوصًا تحریحات جلیلہ کتب مذہب پر کچھ اثر ڈالے ہاں خواہش نفسانی کی پیروی کو اخذوتلفیق بے تحقیق کا ہرشخص کو اختیارہے مغلوبین حال کے افعال،احوال،اقوال،اعمال نہ قابل استناد ہیں نہ لائق تقلید۔حضرت مولوی معنوی قدس سرہ القوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:؎
درحق اوشہد ودرحق تو سم درحق اومدح ودرحق توذم
درحق او ورد ودرحق توخار درحق اونور ودرحق تونار [1]
(اس کے حق میں شہد ہے جبکہ تیرے لئے زہرہے،اس کے حق میں تعریف ہے جبکہ تیرے حق میں برائی ہے،اس کے لئے تو پھول اور تیرے لئے کانٹاہے،اس کے حق میں نورہے جبکہ تیرے حق میں نار(آگ)ہے۔ت)
بالفرض اگرزید بھی اپنے مغلوب الحال ہونے کا دعوی کرے اور مان بھی لیاجائے تو ایك زید وارفتہ وبیخود سہی یہ جو سیکڑوں ہزاروں عوام کا ہجوم وازدحام کرایاجاتا ہے کیایہ بھی سب خدا رسیدہ مغلوب الحال ہوکر آئے ہیں یا دنیابھر سے چھانٹ چھانٹ کر پاگل بوہرے بلائے ہیں جن پر شرع کا قلم تکلیف نہیں،اور جب یہ کچھ نہیں تو اس مجمع کی تحریم اور بانی کی تاثیم میں اصلًا شك نہیں فانما علیك اثم الا ریسیسین(لہٰذا کاشتکاروں کا گناہ تمہارے سرہے۔ت)واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جواب سوال سوم:
بدیہیات دینیہ سے ہے کہ اوّلا عقائد اسلام وسنت پھراحکام صلوٰۃ وطہارت وغیرہا ضروریات شرعیہ سیکھنا سکھانافرض ہے اور انہیں چھوڑ کر دوسرے کسی مستحب وپسندیدہ علم میں بھی وقت ضائع کرنا حرام نہ کہ موسیقی کہ اس کا ہلکا درجہ لغووفضول اور بھاری پایہ مخزن آثام۔وحدۃ الوجود وحقائق ودقائق تصوف جس طرح صوفیہ صادقہ مانتے ہیں(نہ وہ جسے متصوفہ زنادقہ جانتے ہیں) ضرور حق وحقیقت ہے مگر اس میں اکثر ذوق ہے کہ ان مقامات عالیہ پر وصول کے بعد منکشف ہوتاہے زبانی تعلیم وتعلم سے تعلق نہیں رکھتا اور بہت وہ ہے جسے عوام توعوام آج کل کے بہت مولوی کہلانے والے بھی نہیں سمجھ سکتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع