30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذ لو کان لکان واجد اوباب التفاعل اکثرہ علی اظہار الصفۃ ولیست کذلک،فقوم قالوا التواجد غیر مسلم لصاحبہ لما یتضمن من التکلف ویبعد عن التحقیق وقوم قالوا انہ مسلم للفقراء المجردین الذین ترصدوالوجد ان ھذہ المعانی واصلھم خبر الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابکوافان لم تبکوافتباکوااھ وفی شرعۃ الاسلام قال ومن السنۃ ان یقراء القراٰن بحزن ووجد فان القراٰن نزل بحزن فان لم یکن لہ حزن فلیتحازن اھ والحاصل ان تکلف الکمال من جملۃ الکمال والتشبہ بالاولیاء لمن لم یکن منھم امرمطلوب مرغوب فیہ علی کل حال [1]اھ بالاختصار۔ |
نام ہے جبکہ صاحب وجد میں کمال وجد نہ ہو(یعنی کماحقہ وجد نہ ہو)اس لئے کہ اگر اس میں حقیقی وجد ہوتا تو وہ واجد(وجد کرنے والا)کہلاتا کیونکہ تواجد باب تفاعل ہے اور یہ زیادہ تر حقیقت کی بنا پرنہیں،بلکہ بناوٹی ونمائشی اظہارصفت کے لئے آتا ہے اسی لئے بعض علم والے کہتے ہیں کہ"تواجد"صاحب تواجد کی طرف سے مسلّم یعنی تسلیم شدہ اور ٹھیك نہیں، کیوں؟ اس لئے کہ یہ تکلف پر مبنی ہوتاہے اور حقیقت سے بعید ہوتاہے جبکہ کچھ لوگوں نے فرمایا کہ ان فقراء کے لئے درست ہے جو مجرّد ہوں اور ان معانی کے پالینے کے منتظر اور خواہاں ہوں جو مطلوب ومقصود ہیں اور ان کی دلیل حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ لوگو! کم ہنسو اور زیادہ رویاکرو اور اگر رونا نہ آئے تو کم ازکم رونی صورت ہی بنالیاکرو۔شرعۃ الاسلام میں فرمایا سنّت یہ ہے کہ قرآن مجید غم کے ساتھ وجد سے پڑھے اس لئے کہ قرآن مجید غم کے ساتھ نازل ہواہے اور اگر غم کی کیفیت طاری نہ ہو تو غمگین صورت ہی بنالی جائےاھ مختصر یہ کہ تکلفِ کمال بھی منجملہ کمال ہے یعنی کسی کمال میں بناوٹ اور نمائش اختیارکرنا بھی کمال میں شامل ہے اور جو شخص اولیاء اﷲ میں سے نہ ہو اس کا اولیاء اﷲ سے مشابہت اختیارکرنا ایساامرمطلوب ہے جو بہرحال لائق توجہ ہے،اختصار سے عبارت مکمل ہوگئی ہے۔(ت) |
بالجملہ وجد صوفیہ کرام طالبین صادق اصلا محل طعن نہیں اور دربارہ امر قلب ونیت باطن صادق وکاذب میں تمیز مشکل اور اساءت ظن حرام وباطل " وَاللہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِؕ "[2] (اﷲ تعالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع