30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو ترغیب اشاعت فاحشہ واضلال،والعیاذ باﷲ من سوء الحال(اﷲ تعالٰی کی پناہ بُرے حال سے۔ت)رہا رقص اگر اس سے یہ متعارف ناچ مراد ہو تو مطلقًا ناجائزہے زنان فواحش کاناچ ہے اور متصوفہ زمانہ سے بھی بعید نہیں بلکہ معہود ومعلوم ومشہورہے،جب تو بنصوص قطعیہ قرآنیہ حرام ہے وقد تلوناھا فی فتاوٰنا(اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکرکیاہے۔ت)اب اُسے مستحب وقربت جاننا درکنار مباح ہی سمجھنے پرصراحۃً کفرکاالزام ہے اور اگر کتھکوں کاناچ تثنی وتکسُّر یعنی لچکے توڑے کے ساتھ ہے جب بھی حرام وموجب لعن ہے کما نطقت بہ الاحادیث وصرح بہ شراح الحدیث(جیسا کہ احادیث اس پرناطق ہیں اور شارحین حدیث نے اس کی صراحت فرمائی ہے)اور اگر ایسا نہیں بلکہ صرف حرکات مضطربہ ہیں کہ نہ خود موزوں،نہ منکرات پرمشتمل،نہ حالًا یامآلًا فتنے کی طرف منجر،نہ اس کے فاعلین اہل ہیأت ووقار بلکہ بازاری خفیف الحرکات بے وقر،توباینہمہ قیود بھی اس کا اقل مرتبہ یہ ہے کہ ایك قسم لہوولغو ہے اورہرلہوولغو ردوباطل اورہرباطل کا ادنٰی درجہ مکروہ وناجائز۔طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں ہے:
|
الرقص وھو الحرکۃ الموزونۃ علی میزان نغمۃ مخصوصۃ(والاضطراب وھوالحرکۃ غیرالموزونۃ فکل)واحد منھما(من)جملۃ(لعب غیرمستثنٰی)کل لعب ابن اٰدم حرام الاثلٰثۃ ملاعبۃ الرجل اھلہ وتادیبہ لفرسہ ومناصلۃ لقوسہ اخرجہ الحاکم فی المستدرك عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقال صحیح علٰی شرط مسلم[1]۔ |
رقص،وہ نغمہ مخصوصہ کے ترازو پرایك موزوں حرکت کانام ہے۔ اضطراب،غیرموزوں حرکت کوکہاجاتاہے۔پھر ان میں سے ہر ایك ان کھیلوں میں سے ہے جن کو شریعت نے مستثنٰی قرارنہیں دیا،چنانچہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد وفرمان ہے کہ سوائے تین کھیلوں کے آدمی کاہرکھیل حرام ہے،مشروع تین کھیل یہ ہیں:(۱)شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا(۲)اپنے گھوڑے کے ساتھ اس کی سکھلائی کرتے اور تیاری کرتے ہوئے کھیلنا(۳)اپنی کمان کے ساتھ تیراندازی کرنا۔چنانچہ امام حاکم نے مستدرك میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے اس کی تخریج فرمائی اور فرمایا یہ حدیث شرط مسلم کے مطابق صحیح ہے۔(ت) |
اور اگر وجد مراد ہو تو اگر بے اختیار ہے زیرحکم نہیں کہ ع
سلطان نگیرد خراج از خراب
(کیونکہ بادشاہ بنجر اور غیرآباد زمین سے ٹیکس وصول نہیں کرتے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع