30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:
|
حضرت سلطان المشائخ فرمودمن منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیان نباشد۱[1]۔ |
حضرت سلطان المشائخ نے ارشاد فرمایا میں نے منع کیاہے کہ مزامیراورحرام آلات درمیان میں نہ ہوں۔(ت) |
خود حضورپرنورسلطان المشائخ محبوب الٰہی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ملفوظات طیبات فوائدالفوادشریف میں ہے: مزامیر حرام ست[2] (مزامیرحرام ہیں۔ت)احادیث اس بارے میں حدتواتر پرہیں،اور کچھ نہ ہو تو حدیث جلیل جمیل رجیح صحیح بخاری شریف کافی ووافی ہے کہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لیکونن من امتی اقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف[3]۔ حدیث صحیح جلیل متصل لامطعن فیہ سندا و لامتنا الاعند من ھوی فی ھوۃ الہوی کابن حزم و من مثلہ غوٰی وقد اخرجہ ایضا الائمۃ احمد وابو داؤد و ابن ماجۃ واسمٰعیل وابونعیم باسانید صحاح لا غبار علیھا وصححہ جماعۃ اخرون من الائمۃ کما قالہ بعض الحفاظ قالہ الامام ابن حجر المکی فی کف الرعاع[4]۔ |
ضرور میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہونے والے ہیں کہ حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو۔(ت) حدیث صحیح،جلیل القدر اور متصل سندوالی ہے اس کی سند اور متن پرکوئی معترض نہیں سوائے اس کے جو خواہش نفس کے گہرے گھڑے میں گرگیاہواور بے راہ ہوگیاہو جیسے ابن حزم اور اس جیسے دیگرلوگ،نیزا سے ائمہ کرام مثلًا امام احمد،ابو داؤد،ابن ماجہ،اسمٰعیل اور ابونعیم نے ایسی صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیاہے جو شکوك وشبہات سے مبرّا ہیں۔ان کے علاوہ بعض دیگرائمہ اورحفّاظ نے بھی اس کی صحت کو تسلیم کیا ہے،چنانچہ امام ابن حجرمکی نے کف الرعاع میں ارشاد فرمایا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع