30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دقت وغموض افہام قاصرہ پرموجب فتنہ ہوں جیسے حقائق ودقائق وحدۃ الوجود ومراتب جمع وفرق وظہوروبطون وبروزومکون وغیرہا مشکلات تصوف،نہ تعمیم اذن بوجہ تعظیم فجاروتکریم کفاروغیرذٰلك افعال واحوال ناہنجار منجریہ انکارہو،بالجملہ حالًا ومآلًا جملہ منکرات وفتن سے خالی ہو تو عموم اذن وشمول دعوت میں حرج نہیں بلکہ مجلس وعظ وپندبلحاظ پابندی حدودشرعیہ جس قدرعام ہو نفع تام ہو مگرمحفل رقص وسرود اگربفرض باطل فی نفسہ منکر نہ بھی ہوتی تو یہ تعمیم اسے منکرونارواکردیتی سماع مجرد کو ائمہ محققین علمائے عاملین واولیائے کاملین نے صرف اہل پر محدود اور نااہل پرقطعًا مسدودفرمایا ہے،نہ کہ مزامیر محرمہ کہ خود منکروحرام ہیں،سیدمولانا محمدبن مبارك بن محمدعلوی کرمانی مریدحضورپرنورشیخ العالم فریدالحق والدّین گنج شکر وخلیفہ حضور سیّدنا محبوب الٰہی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کتاب مستطاب سیرالاولیاء میں فرماتے ہیں:
|
حضرت سلطان المشائخ قدس اﷲ سرہ العزیز می فرمود کہ چندیں چیزمی باید تا سماع مباح شود مسمع ومستمع ومسموع وآلہ سماع،مسمع یعنی گویندہ مردتمام باشد کودك نباشدوعورت نباشدومستمع آنکہ می شنودوازیادحق خالی نباشدومسموع انچہ گویند فحش ومسخرگی نباشد،وآلہ سماع مزامیرست چوں چنگ ورباب ومثل آں می بایدکہ درمیان نباشداینچنیں سماع حلال ست[1]۔ |
حضرت سلطان المشائخ قدس سرہ فرماتے ہیں چندچیزیں ہوں توسماع مباح ہوگا(۱)مسمع یعنی سنانے والابالغ مرد ہو بچہ اورعورت نہ ہو(۲)مستمع یعنی سننے والاجوکچھ سنے وہ یادحق پرمبنی ہو(۳)مسموع(جوکچھ سناگیا)جوکچھ وہ کہیں وہ بیہودگی اور مذاق ولغوسے پاك ہو(۴)اسباب سماع:گانے بجانے کے آلات سارنگی،رباب وغیرہ،چاہئے کہ وہ مجلس کے درمیان نہ ہوں۔اگر یہ تمام شرائط پائی جائیں تو سماع(یعنی قوالی)حلال اورجائزہے۔(ت) |
اُسی میں ہے:
|
یکے بخدمت حضرت سلطان المشائخ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عرض داشت کہ دریں روزہا بعضے ازدرویشاں آستانہ دار در مجمع کہ چنگ ورباب ومزامیربودرقص کردند فرمودنیکونکردہ اندانچہ نامشروع ست ناپسندیدہ است[2]۔ |
کسی شخص نے حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں یہ شکایت پیش کی کہ آستانہ کے بعض درویشوں نے اس محفل میں رقص کیا ہے جس میں چنگ ورباب اور مزامیراستعمال ہوئے آپ نے فرمایا انہوں نے اچھانہیں کیاکیونکہ جو کام نا جائزہے اسے پسندیدہ قرارنہیں دیاجاسکتا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع