30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثانیًا:اس پرقسم نہ کھائی جائے۔
ثالثًا:فحش نہ بکاجائے۔
رابعًا:اس کے سبب نمازیا جماعت میں تاخیر نہ کی جائے۔
خامسًا:سرراہ نہ ہو گوشے میں ہو۔
سادسًا: نادرًا کبھی کبھی ہو۔
پہلی تین شرطیں توآسان ہیں مگر پچھلی تین پرعمل نادرہے بلکہ ششم پرعمل سخت دشوارہے شوق کے بعد نادرًا ہونا کوئی معنی ہی نہیں لہٰذا راہ سلامت یہ ہے کہ مطلقًا منع ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۳۸: ازموضع رہپورہ تحصیل وضلع بریلی ڈاك خانہ ایزٹ نگر مسئولہ عبدالحمیدخاں صاحب ۱۲صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خادم کے موضع سے ایك میل کے فاصلہ پر رام لیلا کامیلہ ہوتا ہے جس میں راون وغیرہ کے بڑے بڑے بت بنائے جاتے ہیں،موضع کے بہت سے آدمی اس ہندؤوں کے میلہ میں اس کودیکھنے کی غرض سے جاتے ہیں حضور کے یہاں کے ایك طالب علم مسمی مولاناعبداﷲ کی زبانی میں نے سنا تھا کہ حضور کایہ فتوٰی ہے کہ جوکوئی ہندؤوں کے میلہ میں شوقیہ زیبائش اور دیکھنے کی غرض سے جاتاہے اس کانکاح ٹوٹ جاتا ہے لیکن کبھی حضور سے روبرونہیں سناایك شخص نے جواکثر جماعت کی نمازپڑھاتاہے یہ کہا کہ میلے میں جانے سے کچھ حرج نہیں وہاں ہم آریہ وغیرہ کے لکچر سننے جاتے ہیں اور جوناچ ہوتے ہیں ان میں ناچنے والیاں مسلمان ہیں لہٰذا صرف گناہ ہوتا ہے اور کوئی حرج نہیں ہے نکاح وکاح کچھ نہیں جاتا،ہم تو ایك آدھ پیسہ کی چیزبھی تو خریدلیتے ہیں لہٰذا خریدوفروخت کابھی بہانا ہوجاتاہے اس لئے وہ گناہ بھی نہیں ہوتا اور یہ بھی کہتاہے کہ اگرمقتدیوں کو یہ یقین ہے کہ اس کے پیچھے ہماری نماز ہوجائے گی تووہ امام چاہے جیسا ہی گنہگار کیوں نہ ہو اس کے پیچھے نمازہوجائے گی یہ شخص شوقیہ ہمیشہ تعزیہ وغیرہ بھی دیکھنے جاتاہے موضع کے تمام لوگ اس کے تابعدار ہیں اور جیسا حضورحکم فرمائیں گے ویساکریں گے لہٰذا انہوں نے فقیر سے کہا کہ اپنے مرشد قطب العالم امام زمان سے اس میلے اور مذکورہ بالاامام کی بابت دریافت کرو۔فقیر میں یہ جرأت کہاں کہ حضور کے سامنے اتنامفصّل قصّہ زبانی بیان کرسکے لہٰذا جواب باصواب ارقام فرمایاجائے۔
الجواب:
ہنود کے میلے میں جانا حرام ہے مگرنکاح نہیں ٹوٹتا جب تك اسے اچھانہ جانے،اچھا جانے گا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع