30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس کے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعی طورپر لوگوں کے لئے اس کی توہین وتذلیل واجب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۳۴: ازجے پوربمعرفت حاجی عبدالجبار صاحب ۱۹ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیاحکم ہے شریعت مطہر ہ کامسئلہ ذیل میں کہ زیدکہتا ہے کہ قوالی مع آلات مزامیر کے جائزہے اور بکثرت مشائخ کرام نے اسی طرح سنا ہے اور کہتاہے کہ مزامیر ان باجوں کو کہتے ہیں جو منہ سے بجائے جاتے ہیں،ڈھلک،ستار،طبلہ،مجیرے،ہارمونیم، سارنگی مزامیر میں داخل نہیں بلکہ اُن کا اوردف کاایك حکم ہے۔اگرزمانہ اقدس میں یہ چیزیں موجودہوتیں تو مثل دف کے اس کا بھی حکم فرماتے۔اور کہتا ہے کہ تم لوگ نااہل ہو رموز مشائخ طریقت سے ناواقف ہو اگرحرام ہوتوتمہارے لئے مگر ہمارے لئے جائزہے۔اور کہتاہے کہ امام غزالی علیہ الرحمۃ نے اس کو صاف جائزبتایاہے۔
پس سوال یہ ہے کہ باجے مذکورالصدر کے ساتھ قوالی سننا کیاجائزہے یاحرام؟ اگرحرام ہے تو زیدکے لئے کہ وہ حرام کو بالاعلان حلال کہتا ہے بلکہ خود اہتمام والتزام کے ساتھ سننا اور بالعموم ایسی مجالس میں شرکت کرتاہے کیاحکم ہے اور اس کے پیچھے نماز فریضہ کیسی ہوگی؟ اور مزامیر کی تعریف کیاہے؟ اور باجے مذکور مزامیر ہیں یانہیں؟ جوحکم خدا ورسول جل وعلاوصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہو وضاحت سے ارشاد ہو،جزاکم اﷲ فی الدارین خیرالجزاء(اﷲ تعالٰی تمہیں دنیاوآخرت میں سب سے بہتربدلہ عطافرمائے۔ت)
الجواب:
زیدکاقول باطل ومردودہے،حدیث صحیح بخاری شریف میں مزامیر کالفظ نہیں بلکہ معازف کہ سب باجوں کوشامل ہے یستحلون الحروالحریر والمعازف[2] زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کوحلال سمجھیں گے۔ت) امام غزالی پربھی افتراء ہے کہ انہوں نے ان مذکورات خبیثہ کو صاف ناجائزبتایاہے طرفہ یہ کہ انہوں نے نَے کے جواز کی طرف میل کیا جومزامیر سے ہے مشائخ کرام پرافترا ہے،حضرت سیّدی فخرالدین زراوی خلیفہ حضرت سیدنامحبوب الٰہی رضی اﷲ عنہما نے"کشف القناع عن اصول السماع"میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع