30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسلمانو! زبان اختیارمیں ہے شعریات باطلہ میں العسل مرۃ والخمریاقوتیۃ(شہد کڑواہے اور شراب یاقوتی ہے،یعنی یوں کہنا حقیقت ثابتہ کے سراسرخلاف ہے۔ت)کہہ دینے کاہرشخص کواختیارہے شرابی شراب کو بھی غذائے روح وجانفزا وجان پرورکہاکرتے ہیں کہنے سے کیاہوتاہے محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جو فرق بتایا ہے ذراانصاف وایمان کے ساتھ اُسے سنئے توخود کھل جائے گا ع
کہ باکہ باختہ عشق درشب دیجور
(اندھیری رات میں تُو نے کس کے ساتھ عشق لڑایا۔ت)
ہاں سنئے اور گوش ایمان سے سنئے کہ ارشاد اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کیا ثابت ہے،غذائے روح وہ ہے جس کی طرف شریعت محمدیہ علٰی صاحبہا واٰلہ افضل الصلوٰۃ والتحیۃبلاتی ہے اور جس کی طرف شریعت مطہرہ بلاتی ہے اس پروعدہ جنت ہے اور جنت اُن چیزوں پرموعود ہے جو نفس کومکروہ ہیں،اور غذائے نفس وہ ہے جس سے شریعت محمدیہ صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلٰی آلہٖ منع فرماتی ہے اور جس سے شریعت کریمہ منع فرماتی ہے اس پر وعیدنارہے اور نار کی وعید ان چیزوں پرہے جو نفس کو مرغوب ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
حفت الجنۃ بالمکارہ وحفت النار بالشھوات۔رواہ البخاری[1] فی کتاب الرقاق بلفظ حجبت وتقدیم الجملۃ الاخیرۃ ومسلم باللفظ عن ابی ھریرۃ و احمد[2] ومسلم والترمذی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما فی صحیحہ۔ |
جنت ان چیزوں سے گھیردی گئی ہے جو نفس کو ناگوارہیں اور دوزخ ان چیزوں سے ڈھانپ دی ہے جو نفس کو پسند ہیں (امام بخاری نے کتاب الرقاق میں ساتھ لفظ حجبت کے اس کو روایت کیاہے اور آخری جملہ کی تقدیم سے اس کو ذکرفرمایا اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ کے الفاظ سے۔اور احمد،مسلم اور جامع ترمذی نے حضرت انس سے(اﷲ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو)اپنی صحیح میں ذکرفرمایا۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع