30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرناجائزہے تو کیا علم قوانین موسیقی ناجائزہے یابعد حصول علم موسیقی رعایت اس کی معیوب ومقبوح ہے حالانکہ علم کسی امر کاقبیح نہیں کیونکہ حضورپرنورسیدیوم النشور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوجمیع امور کاعلم بالتفصیل بعطاء الٰہی حاصل تھا اور ہے۔پھراگررعایت اس کی ناجائزہے توجمیع علماء کو اپنے کلام(منظوم یامنثور)کوجوبوقت وعظ وغیرہ پڑھتے ہیں اور اس میں موسیقی پائی جاتی ہے امتیازحاصل کرنے کے لئے موسیقی سے غیرموسیقی کوفن موسیقی معلوم کرنا ضرورہے تاکہ حق کو باطل سے جداکرلیں،کیونکہ یہ قاعدہ کلیہ ہے یعرف الاشیاء باضدادھا(اشیاء اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ت)تو جب تك کہ غیرموسیقی کی ضد کو یعنی موسیقی حاصل نہ ہو اس وقت تك امتیاز بایں ہمہ غیرمتصور،ورنہ اختلاط باوجود قدرت جائزنہ ہوگا والابرعایت موسیقی ہرکلام خواہ نظم ہو یانثر باستثناء قرآن شریف جائزقرارپائے گا۔بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجروثواب پائیے۔ ت)
الجواب:
جب سامع ومسموع ومُسمَع ومِسمع ومَسمع وسماع واسماع سب مفاسد سے پاك ہوں توسننا سناناسب جائزہے اگرچہ بالقصد برعایت قوانین موسیقی ہو،خواہ فارسی یااردو یاہندی جوکچھ بھی ہو باستثناء قرآن عظیم موسیقی کی نسبت آواز کی طرف وہ ہے جو عروض کی نسبت کلام کی طرف،کلام جب حسن ہو اوزان عروضیہ پرمنظوم کردینے سے قبیح نہ ہوجائے گا۔یوہیں الحان کہ مباح ہو قوانین موسیقی کی رعایت سے ناجائزنہ ہوجائے گا۔حدیث میں فرمایا:
|
الشعر کلام فحسنہ حسن وقبیحہ قبیح[1]۔ |
شعرایك کلام ہے،جو اچھاہے وہ اچھاہے،اور جوبراہے وہ براہے۔(ت) |
سامع تو وہ چاہئے جس کے قلب پرشہوات ردیہ کا استیلانہ ہو کہ سماع کوئی نئی بات پیدا نہیں کرتا بلکہ اسی کو اُبھارتاہے جودل میں دبی ہو،مسموع میں ضرور ہے کہ نہ فحش ہو نہ کوئی کلمہ خلاف شرع مطہر،نہ کسی زندہ امرد کا ذکر ہو نہ کسی زندہ عورت کی تعریف،نہ ایسی قریب مردہ کانام ہو جس کے اعزّہ زندہ ہوں او رانہیں اس سے عارلاحق ہو،امثال لیلے سلمے سعاد میں حرج نہیں۔ مُسمع بالضم یعنی پڑھنے یاگانے والامرد بوڑھا یاجوان ہو،امرد یاعورت نہ ہو۔مِسمع بالکسر یعنی آلہ سماع مزامیر نہ ہوں اگر ہو تو صرف دف بے جلاجل جوہیئات تطرب پرنہ بجایاجائے۔مَسمع بالفتح جائے سماع مجلس فساق نہ ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع