30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان فوائد کو ملحوظ رکھ کر مغنیہ اجنبیہ کاگانا سننے کی حرمت میں شبہہ نہیں ہوسکتا بیشك وہ داعی ہے او ر داعی حرام حرام اگرچہ مستلزم بلکہ اس وقت مفضی بھی نہ ہو اگرچہ خصوص محل میں داعی بھی نہ ہو اور بعض نفوس مطمئنہ کہ شہوات سے یکسرخالی ہوگئے ان کے لحاظ سے حکم میں تفصیل ناممکن بلکہ وہی حکم عام جاری رہے گا ورنہ خلوت ومس وتقبیل وامثالہا میں بھی حکم مطلق نہ رکھیں تفصیل لازم ہوکہ قلب شہوانی کے لئے حرام ہیں اور نفوس مطمئنہ کے لئے جائز حالانکہ یہ قطعًا اجماعًا باطل ہے۔
(۶)جبکہ منشاء تحریم داعی ہونا ہے اور اس میں ہرداعی مستقل توایك کی تحریم دوسرے کے وجود پرموقوف نہیں ہوسکتی۔
|
والالم یکن شیئ منھا داعیا بل المجموع اولم یکن داعیا الاشرط وجودہ وکان الآخر لغواساقطا من البین۔ |
ورنہ ان میں سے کوئی چیزداعی نہ ہو بلکہ مجموعہ یاداعی نہ ہو مگر اس کے پائے جانے کی شرط سے۔اور دوسرابے فائدہ درمیان سے ساقط ہو۔(ت) |
شرع مطہر نے یہاں نفس صوت فتنہ پرحکم فرمایا ہے:
|
قال اﷲ تعالٰی " وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ "[1] و عن انس وعن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صوتان ملعونان فی الدنیا والاٰخرۃ مزمار عندنعمۃ ورنۃ عندمصیبۃ[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا توپھسلادے ان میں سے جس کو تو اپنی آواز سے پھسلاسکتاہے(یہ شیطان سے خطاب فرمایا)اور حدیث میں حضرت انس اور حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کرتے ہیں دو آواز دنیا اورآخرت میں ملعون ہیں(۱)آسائش کے وقت گانا بجانا (۲)مصیبت کے وقت بین کرنا(ت) |
تیسری حدیث میں ہے:
|
عن انس ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال من قعد |
حضرت انس سے روایت ہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:جوکوئی گانے والی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع