30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درج ہے کسی کو مجال انکار نہیں،اور بیشك وہ آواز جوفونوگراف سے نکلتی ہے بعینہ وہ ہی آواز ہے جو اس عورت کے گانے کی ہے مگرعلمائے کرام وصوفیائے عظام نے جب بالمواجہہ کسی کاگانا سننے اور پس پردہ میں فرق فرمایا ہے تویہاں بدرجہ اولٰی ہونا چاہئے۔حضرت امام غزالی قدس سرہ حضورپرنوروالابرکت سیدی شاہ محمدکالپوری قدسنا اﷲ باسرارہ الشریف نے کسی جگہ تحریر فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص مغنیہ کی آوازمنہ پرکپڑاڈال کرسنے کہ اس کی صورت نہ دیکھ سکے تو اس میں مضائقہ نہیں،اگرچہ یہ مضمون میں نے خود ان دونوں حضرات قدسنااﷲ باسرارہم کی کسی کتاب میں نہیں دیکھا مگرامام غزالی رحمہ اﷲ کی نسبت مولوی حکیم عبدالوہاب نے کہاتھا اور حضرت کالپوری قدس سرہ العزیز کی نسبت رجب ۱۳۲۷ھ میں مولوی محمدفاخر صاحب نے مارہرہ شریف میں،اگرچہ اسی وقت سے بارہاخیال اس کے دریافت کاہوامگراتفاق نہ پڑا،خیرپس اگریہ دونوں مضمون ان حضرات کرام یا اور کسی صاحب نے نہیں تحریرفرمایا جب توکوئی بات ہی نہیں،اور اگرتحریرفرمایا ہے توغالبًا اس کی وجہ قلت مظنہ فتنہ ہے تو یہاں تو اور اقل قلیل ہے خصوصًا اس صورت میں کہ جس کاریکارڈ بھراہوا ہو وہ مرچکی ہو پھردونوں کاحکم ایك کس طرح ہوسکتاہے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
یہ مضمون کہ منہ پرکپڑاڈال کررنڈیوں ڈومنیوں کاگانا سنناجائزہے دونوں حضرات ممدوح قدسنااﷲ باسرارہما میں کسی سے ثابت نہیں،نہ ہرگز شرع مطہر میں اس کا پتا،نہ اصول شرع اس کی مساعد،نہ ایسی نقول مذہب پرقاضی ہوسکیں۔
(۱)شریعت محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جس طرح فتنہ کوحرام فرمایا دواعی فتنہ کو بھی حرام فرمادیا۔
|
قال اﷲ تعالٰی" تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوۡہَاؕ "[1]وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ من رتع حول الحمی اوشك ان یقع فیہ[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا یہ اﷲ تعالٰی کی حدیں ہیں لہٰذا ان کے پاس نہ جاؤ۔حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی کسی چراگاہ کے آس پاس جانورچرائے تو قریب ہے کہ چراگاہ میں گھس جائے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع