30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
چگونہ شنید ورقص کردید ایشاں جواب دادند کہ ماچناں مستغرق سماع بودیم کہ ندانستیم کہ ایں جامزامیرست یانہ، حضرت سلطان المشائخ فرمود ایں جواب ہم چیزے نیست ایں سخن درہمہ معصیتہابیاید[1]۔ |
پوچھا کہ یہ تم نے کیاکیاہے،اس محفل میں تومزامیر بھی تھے پھرتم نے قوالی بھی سنی او رناچتے بھی رہے۔انہوں نے جوابًا بتایا کہ ہم سماع میں اس قدرمستغرق(ڈوبے ہوئے)تھے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلاکہ مزامیر بھی ہیں یانہیں۔اس پرسلطان المشائخ نے فرمایا کہ یہ کوئی معقول جواب نہیں اس لئے کہ یہ بہانہ توتمام گناہوں میں ملوث ہونے والے کرسکتے ہیں۔(ت) |
مسلمانو! کیساصاف ارشاد ہے کہ مزامیر ناجائزہے اور اس عذر کاکہ"ہمیں استغراق کے باعث مزامیر کی خبرنہ ہوئی"کیامسکت جواب عطافرمایا کہ ایساحیلہ ہرگناہ میں چل سکتاہے۔شراب پئے اور کہہ دے شدّت استغراق کے باعث ہمیں خبرنہ ہوئی کہ شراب ہے یاپانی۔زناکرے اور کہہ دے غلبہ حال کے سبب تمیزنہ ہوئی کہ جروا ہے یابیگانی۔اُسی میں ہے:
|
حضرت سلطان المشائخ فرمود من منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیان نباشد ودریں باب بسیارغلوکردتابحدیکہ گفت اگر امام راسہو افتدمرد بتسبیح اعلام دہدوزن سبحان اﷲ نگوید زیرا کہ نشاید آوازآں شنودن پس چکندپشت دست برکف دست زندوکف دست برکف دست نزند کہ آں بلہو میماندتا ایں غایت ازبلاہی و امثال آں پرہیزآمدہ است پس درسماع طریق اولٰی کہ ازیں بابت نباشد یعنی درمنع دستك چندیں احتیاط آمدہ است پس درسماع مزامیر بطریق اولٰی منع است [2]اھ باختصار |
حضرت سلطان المشائخ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے منع کیا ہے کہ مزامیر حرمت درمیان میں نہ ہوں اور اس سلسلے میں اس قدرتعدّی(شدت)فرمائی کہ ارشاد فرمایا امام اگرنماز میں بھول جائے تو مردسبحان اﷲ کہہ کر آگاہ کرسکتاہے مگرعورت کو اس طرح کہناجائز نہیں کیونکہ اس کی آواز نہیں سنی جانی چاہئے اس کے لئے یہ ہدایت اور حکم ہے کہ وہ اپنے ایك ہاتھ کی پشت پردوسرے ہاتھ کی ہتھیلی مارے لیکن ہتھیلی کوہتھیلی پرنہ مارے کیونکہ یہ عمل لہو میں شمارہوتاہے یعنی تالی بجانا، پس اندازہ کرلیاجائے کہ کس حد تك کھیل کوداور لغو کلام سے پرہیزکی ہدایت وارد ہوئی ہے پس سماع میں بطریق اولٰی منع ہے یعنی تالی بجانے سے بھی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع