30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے حاضرین کے گناہ میں کچھ تخفیف ہو،نہیں بلکہ حاضرین میں ہرایك پراپناپوراگناہ اور قوالوں پراپناگناہ الگ اور سب حاضرین کے برابرجدا اور سب حاضرین کے برابر علیحدہ وجہ یہ کہ حاضرین کوعرس کرنے والے نے بلایا اُن کے لئے اس گناہ کا سامان پھیلایا اور قوالوں نے انہیں سنایا اگر وہ سامان نہ کرتا یہ ڈھول سارنگی نہ سناتے توحاضرین اس گناہ میں کیوں پڑتے اس لئے ان سب کا گناہ ان دونوں پرہوا پھرقوالوں کے اس گناہ کاباعث وہ عرس کرنے والا ہوا وہ نہ کرتا نہ بلاتا تو یہ کیونکر آتے بجاتے لہٰذا قوالوں کابھی گناہ اس بلانے والے پرہوا،
|
کما قالوا فی سائل قوی ذی مرۃ سوی ان الاٰخذ والمعطی اٰثما[1]لانھم لولم یعطوالمافعلوا فکان العطاء ھوالباعث لھم علی الاستر سال فی التکدی و السوال وھذا کلہ ظاھر علی من عرف القواعد الکریمۃ الشرعیۃ وباﷲ التوفیق۔ |
جیسا کہ طاقتور،توانا اور صحت مندسائل کے بارے میں کہتے ہیں کہ لینے اور دینے والا دونوں گنہگار ہیں اس لئے کہ اگر دینے والے نہ دیتے تو مانگنے والے گداگری کوپیشہ نہ بناتے لہٰذا یہ عطاء بخشش ہی ان کے ترك مشقت کا اور مانگنے کاباعث ہوئی اور یہ سب کچھ اس شخص پرظاہر اور واضح ہے جوقواعد شرعیہ کریمہ کاعارف ہے۔اور اﷲ تعالٰی کے فضل وکرم سے ہی توفیق ملتی ہے۔(ت) |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لاینقص ذٰلك من اجورھم شیئا ومن دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اٰثام من تبعہ لاینقص ذٰلك من اٰثامھم شیئا رواہ الائمۃ احمد[2] ومسلم والاربعۃ |
جو کسی امرہدایت کی طرف بلائے جتنے اس کا اتباع کریں ان سب کے برابر ثواب پائے اور اس سے ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ آئے اور جو کسی امرضلالت کی طرف بلائے جتنے اس کے بلانے پر چلیں ان سب کے برابر اس پرگناہ ہو اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ تخفیف نہ ہو۔(ائمہ کرام مثلًا امام احمد،مسلم اور دیگر چارائمہ(ترمذی، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع