30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:دونوں(تاش وشطرنج)ناجائزہیں اور تاش زیادہ گناہ وحرام کہ اس میں تصاویر بھی ہیں،
|
ومسألۃ الشطرنج مبسوطۃ فی الدر[1] وغیرھا من الحظر والشہادات،والصواب اطلاق المنع کما اوضحہ فی ردالمحتار[2]واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ |
شطرنج کامسئلہ بڑی تفصیل کے ساتھ درمختار وغیرہ میں موجود ہے اور صواب(درست اور حقیقت)یہ ہے کہ اس کی مطلقًا ممانعت ہے جیسا کہ فتاوٰی شامی میں اس کی وضاحت فرمائی گئی۔اور اﷲ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے اور اس کا علم نہایت درجہ تام اور پختہ ہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۶: ۲۸ربیع الآخرشریف ۱۳۲۰ھ مسئولہ شیخ شوکت علی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص میرادوست آیا اور اس نے مجھ سے کہا چلو ایك جگہ عرس ہے،میں چلاگیا وہاں جاکردیکھا کہ بہت اشخاص ہیں اور قوالی اس طریقہ سے ہورہی ہے کہ ایك ڈھول او دوسارنگی بج رہی ہے اور چندقوال پیرانِ پیردستگیر کی شان میں شعرپڑھ رہے ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نعت کے اشعار اور اولیاء اﷲ کی شان میں اشعار گارہے ہیں اور ڈھول سارنگیاں بج رہی ہیں،یہ باجے مذکورہ توشریعت میں حرام ہیں کیا اس فعل سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور اولیاء اﷲ خوش ہوں گے اور یہ اشخاص مذکورہ حاضرین جلسہ گنہگارہوئے یانہیں؟ اور ایسی قوالی جائزہے یانہیں؟ او راگرجائزہے توکس طرح پر؟ بینواتوجروا فقط۔
الجواب:
ایسی قوالی حرام ہے،حاضرین سب گنہگار ہیں،اور ان سب کاگناہ ایساکرنے والوں اور قوالوں پرہے اور قوالوں کابھی گناہ اس عرس کرنےو الے پربغیراس کے کہ عرس کرنے والے کے ماتھے قوالوں کاگناہ جانے سے قوالوں پرسے گناہ کی کچھ کمی آئے یا اس کے قوالوں کے ذمہ حاضرین کاوبال پڑنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع