30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
گٹھلیاں مارنا ناجائزوممنوع ہے مسندامام احمدوصحیح بخاری و مسلم وسنن ابی داؤدوسنن نسائی وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن مغفل مزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی:
|
قال نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الخذف وقال انہ لایقتل الصید ولاینکاء العدو وانہ یفقأ العین ویکسرالسن[1]۔ فی التیسیر الخذف بمعجمتین وفاءٍ الرمی بحصاۃ اونواۃ لانہ یفقأ العین و لایقتل الصید[2]۔ |
یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے غلایاگٹھلی کنکری پھینك کرمارنے سے منع کیا اور فرمایا اس سے نہ دشمن پروار ہو سکے نہ جانور کاشکار،اس کانتیجہ یہی ہے کہ آنکھ پھوڑدے یا دانت توڑدے۔ تیسیر میں ہے"الخذف"میں دوحروف"خ"اور"ذ"' دونوں نقطے والے ہیں اور آخر میں حرف"ف"ہے اس پربھی نقطہ ہے اس کے معنی ہیں گٹھلی وغیرہ پھینکنا۔ |
اور صرف چھلکوں سے ہم عمرہم مرتبہ لوگ نادرًا محض تطبیب قلب کی طورپرباہم مزاح دوستانہ کریں جس میں اصلًا کسی حرمت یاحشمت دینی کا ضررحالًا یامالًا نہ ہو تو مباح ہے۔عالمگیری میں ہے:
|
قال القاضی الامام ملك الملوک،اللعب الذی یلعب الشبان ایام الصیف بالبطیخ بان یضرب بعضھم بعضا مباح غیرمستنکر کذا فی جواھر الفتاوی فی الباب السادس[3]۔ |
قاضی امام ملك الملوك نے فرمایا وہ کھیل جو موسم گرما میں نوجوان خربوزوں کے ساتھ کھیلتے ہیں ایك دوسرے کو خربوزے مارتے ہیں یہ کھیل مباح ہے گناہ نہیں۔ جواہر الفتاوٰی کے چھٹے باب میں اسی طرح مذکور ہے۔(ت) |
[1] صحیح البخاری کتاب الادب باب الخذف قدیمی کتب خانہ ۲/ ۹۱۹،صحیح مسلم کتاب الصید باب الخذف قدیمی کتب خانہ ۲/ ۱۵۲،سنن ابی داؤد کتاب الادب باب الخذف آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۸
[2] التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت حدیث نہی عن الخذف مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۴۶۶
[3] فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب السابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع