30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ویخبرالناس ینقلونہ فیصل الخبر الٰی بعض المغرورین بعلمھم المطرودین عن ابواب فضل اﷲ تعالٰی فیقول وصلنی ھذا عن فلان بالتواتر ولایعلم المسکین ان الذی ینقلون الیہ الکذب ینقلون عنہ ایضا الکذب لغیرہ وبعد ھذا کلہ اذا ثبت فعل المعصیۃ من احد بطریق التواتر اوالروایۃ لم یفد شیئا لان ذکرہ بمعصیۃ بین الناس علی وجہ الذم حرام لان الغیبۃ صدق محرم اماقصد ان یحذر الناس والخبر شائع فی الناس فغیر معتبر نعم قالوا ذٰلك فیما اذا لم یکن للناس علم بہ وھذا انما استفاد العلم بہ من خبر الناس المتواتر عندہ وعلی کل حال فالسترلعورات المسلمین ھوالمتعین علی صاحب الاستقامۃ فی الدین،ذکر النجم الغزی رحمہ اﷲ تعالٰی فی حسن التنبہ فی التشبہ،ان من اخلاق الیھود والنصاری الاتھام والوقوع فی عرض من لم یثبت |
پھر لوگ وہ بات اس کے حوالے سے بیان کرتے ہیں پھر یہ خبربعض ایسے لوگوں تك پہنچ جاتی ہے جو اپنے علم پرمغرور اور فریب خوردہ ہوتے ہیں اور فضل خداوندی سے دھتکارے ہوئے ہوتے ہیں۔پھروہ کہتاہے کہ مجھے فلاں شخص کی طرف سے بتواتر یہ بات پہنچی ہے حالانکہ اس بیچارے کو معلوم نہیں ہوتا کہ جو اس کی طرف جھوٹ نقل کرتے ہیں وہ اس سے بھی دوسروں تك جھوٹ نقل کرسکتے ہیں۔ان تمام باتوں کے بعد جب کسی شخص سے بطریق تواتریامشاہدہ گناہ ثابت ہوجائے توپھربھی اس کاتذکرہ بند کردے کیونکہ لوگوں میں بطورغیبت کسی کے گناہ کاتذکرہ حرام ہے اس لئے کہ غیبت سچی بھی حرام ہے لیکن اگر اس نے لوگوں کو ڈرانے اور چوکنا کرنے کے لئے ایسے کیا جبکہ خبرلوگوں میں پھیلی ہوئی اور مشہورہے تو اس کی بات غیرمعتبر ہے،ہاں اگروہ ایسی بات کہیں جس کالوگوں کوکوئی علم نہیں ہوتا یہ الگ بات ہے،یہ اس وقت ہے جب یہ خبر سے علم کا فائدہ حاصل کرے جب کہ لوگوں کی خبر اس کے نزدیك متواترہو،بہرحال مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی ان لوگوں پرلازمی ہے جو دین میں استقامت رکھتے ہیں،چنانچہ امام نجم غزی رحمۃ اﷲ علیہ تعالٰی علیہ نے"حسن التنبہ فی التشبہ"میں ذکرکیا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اخلاق میں سے یہ ہے کہ دوسروں کو الزام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع