30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشرعی علی ان الحاکم ایضا یحکم بالظاھر، و بواطن الامور معلومۃ عنداﷲ تعالٰی فلاقطع الاظاھرا واﷲ اعلم بالسرائر، واماخبر التواتر من الناس لبعضھم بعضا بذٰلك فھو ممنوع،لاستناد الکل فیہ الی الظن والتخمین واستفادۃ الخبر من بعضھم لبعض بحیث لوسألت کل واحد منھم من رؤیتہ ذٰلك لقال لم اعاینہ انما سمعت ومن قال عاینتہ تستکشف من حالہ فتراہ مستندا الی ظنون وامارات وھمیۃ وربما اذا تاملت وجدت خبر ذلك التواتر مستندا فی الاصل الٰی خبرواحداواثنین والواحد ایضا قولہ مبنی علی الظن والتھمۃ فلایجوز لاحد ان یقول ثبت عندی بالتواتر معصیۃ فلان لان الناس اخبرونی بذٰلك وھم کثیرون،وانما ذٰلك لغلبۃ الکذب فی الناس خصوصا فی زماننا،وکثرۃ الحسد و العداوۃ وربما یفتری احدھم علی رجل بمالاعلم لہ بہ ویخبرالناس بذلك |
حاکم بھی ظاہر پر حکم لگاتاہے اور پوشیدہ ومخفی امورتواﷲ تعالٰی ہی کومعلوم ہیں لہٰذا ظاہری محل یقین ہوسکتاہے اورپوشیدہ بھیدوں کو تو اﷲ تعالٰی ہی خوب جانتاہے۔رہایہ کہ اس باب میں لوگوں کاایك دوسرے سے خبرتواتر کاوصول،تووہ ممنوع ہے کیونکہ اس میں سب کا استناد گمان اور اندازہ ہے۔لوگوں کا ایك دوسرے سے استفادہ خبر،اس طریقے سے ہرایك نے دوسرے سے اس کی رؤیت(مشاہدے)کا سوال کیا تو اس نے کہا میں نے نہیں دیکھا میں نے صرف سناہے اور جو یہ کہے میں نے دیکھاہے اگرتم اس کے حال کاانکشاف کرو یعنی چھان بین کرو تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس کی سند بھی گمان اور چند وہمی علامات پر ہے خصوصًا جب آپ غوروفکر کریں گے تو اس خبرمتواتر کو ایك یا دو کی طرف منسوب پائیں گے،اور ایك کا قول بھی ظن اور الزام وتہمت پرمبنی ہوگا لہٰذا کسی شخص کے لئے یہ کہناجائز نہیں کہ میرے نزدیك فلاں آدمی کاگناہ تواتر سے ثابت ہے اس لئے کہ زیادہ ترلوگوں نے مجھے یہی بتایا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں زیادہ ترجھوٹ ہوتاہے خصوصًا ہمارے دورمیں زیادہ حسد اور دشمنی پائی جاتی ہے۔بسااوقات کوئی شخص کسی پرایساافتراباندھتاہے جس کا اسے خود بھی علم نہیں ہوتا اور وہ لوگوں کو اطلاع دیتاہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع