30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تصحیح الاول[1]۔ |
نقل کی گئی۔(ت) |
اور شرع مطہر کو ایسا ویسا یعنی حقیر جاننے والا توقطعًا اجماعًا کافرمرتد زندیق ملحدہے ایسا کہ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر[2]جو اس کے کافرومستحق نار ہونے میں شك کرے وہ خود کافرہے، اسی طرح جوتفسیرجلالین شریف خواہ کسی کتاب دینی کی فی نفسہٖ نہ کسی امرخارج عارض کے باعث بلاشبہ و تاویل تحقیر کرے کافرہے مگرکلام مذکورفی السوال نہ تنقیص شرع مطہر میں صریح ہے نہ تحقیر۔جلالین شریف میں نص کریمہ مذکورہ کے وہ معنی کہ اس قائل نے بتائے معانی مذکورہ تفاسیر کے منافی نہیں کہ ان کی تصحیح کو ان کاابطال ضرورہے بلکہ ایك معنی جداگانہ ہیں تو اس کے قول کایہی محمل نہیں کہ معانی ظاہرہ معاذاﷲ باطل ہیں حق وہ ہے جو اہل باطن ان کے خلاف جانتے ہیں بلکہ اس کا مطلب بننے کو اس قدرکافی کہ جو کچھ ان تفاسیر میں ہے یہ معانی ظاہرہ ہیں اور افادات قرآن عظیم انہیں میں محصور نہیں بلکہ ان کے سوا اور نکات انیقہ ولطائف دقیقہ بھی ہیں جنہیں اہل باطن جانتے ہیں اس میں نہ کوئی توہین ہوئی نہ تحقیربلکہ یہ حق ہے اگرچہ اس محل پر آیہ کریمہ کاایراد اور یہ ادعائے مرادباطل ہے تویہاں معاذاﷲ ثبوت کفرکاکوئی محل نہیں،شرح عقائد میں ہے:
|
النصوص تحمل علی ظواھرھا والعدول عنھا الی معان یدعیھا الباطنیۃ لادعائھم ان النصوص لیست علی ظواھرھا بل لھامعان باطنیۃ لایعرفھا الا المعلّم وقصد ھم بذاك نفی الشریعۃ بالکلیۃ الحاد لکونہ تکذیب للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیما علم مجیئہ بہ بالضرورۃ واما ماذھب الیہ بعض |
نصوص اپنے ظاہری معانی پرمحمول ہواکرتے ہیں لیکن ظاہری معانی سے انہیں ایسے معانی کی طرف پھیردینا کہ جن کافرقہ باطنیہ والے دعوی کرتے ہیں اس لئے کہ ان کا دعوٰی یہ ہے کہ نصوص اپنے ظواہر پرنہیں محمول ہوتے بلکہ ان کے لئے باطنی اور پوشیدہ معانی ہوتے ہیں اور انہیں صرف معلم جانتاہے اس سے ان کاپوری شریعت کی نفی کاارادہ کرنا کھلا الحاد(بے دینی)ہے اس لئے کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ان احکام میں تکذیب ہے جن کا لانا آپ سے بالبداہت معلوم ہوگیا ہے۔رہی یہ بات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع