30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے توجومیری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ گمراہ نہ ہو نہ سختی جھیلے اور جو میرے ارشاد سے منہ پھیرے اس کے لئے تنگ زندگانی اور اسے ہم روزقیامت اندھا اٹھائیں گے۔اس مضمون کو سورہ بقر میں یوں ادا فرمایا ہے:
|
" فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ﴿۳۸﴾ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۳۹﴾٪"[1] |
اگرتمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جومیری ہدایت کی پیروی کریں انہیں کچھ خوف نہیں نہ وہ غمگین ہوں اور جوکفرکریں اور میری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے۔ |
ایك ہی قصہ ہے ایك ہی ارشاد ہے تو خود قرآن عظیم نے شرح فرمادی ہے کہ اعراض عن الذکر سے کفرمراد ہے،اب نقل اقوال مفسرین کی حاجت نہ رہی،حدیث میں ہے کچھ لوگوں نے چلاچلا کر مسجد میں ذکرکرنا شروع کیا سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے انہیں نکلوادیا اب خواہ یہ نکلوانا اس بناپر ہو کہ ان کے نزدیك ذکرجہرممنوع تھا خواہ اس لئے کہ ان کے چلانے سے نمازیوں پرتشویش تھی خواہ کسی وجہ سے ہوبہرحال جب ایسی حالتوں میں خود ذاکرین کونکلوادینا معیوب نہ ہوا توآپ اُٹھ کرچلاجانا کیونکر محل طعن ہوسکتاہے،غرض آیت سے نہ یہ ارادہ صحیح نہ ان مسلمانوں پر یہ حکم لگانا درست،حلقے میں کا وہ شخص جو اس کاقائل ہوا اگرجاہل ہے تو دو سخت کبیرہ گناہوں کامرتکب ہوا:
اولًا: بے علم قرآن عظیم کی تفسیرکرنا،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من قال فی القراٰن بغیرعلم فلیتبوا مقعدہ من النار۔ رواہ الترمذی[2] عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما وقال صحیح۔ |
جو بے علم قرآن میں کچھ بولے وہ اپناٹھکانا دوزخ میں بنالے (امام ترمذی نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حواٰلہ سے اسے روایت کیااور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع