30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاقام وتواجد ولم یحصل لھم ھذا الوجد من العلم الذی خاضوافیہ وان کان العلم حقا انتھی و لاشك ان التواجد فیہ تشبّہ باھل الوجد الحقیقی وھو جائز بل مطلوب شرعًا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من تشبہ بقوم فھو منھم رواہ الطبرانی فی الاوسط عن حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ،ھذا اذاکان قصدہ بذلك مجرد التشبہ بھم والتبرك بسیرتھم محبۃ لھم ورغبۃ فی زیادۃ المیل الیھم واما اذاکان مقصدہ ان یعتقدہ الناس و یتبرکون بہ فھوالابس ثوبی زورفھو مذموم ممقوت عنداﷲ تعالٰی والناس یحملونہ علی المحامل الحسنۃ واما التواجد علی الوجہ الصحیح فقداشار الیہ الشیخ القشیری فی رسالتہ حیث قال قوم قالوا التواجد غیرمسلم لصاحبہ لمایتضمن من التکلف ویبعد عن التحقیق وقوم قالوا انہ مسلم |
کی وجہ سے اسے پہچانتاہوں اور وہ بھی اپنے اندر موجزن سوز عشق کی وجہ سے مجھے پہچانتی ہے۔پھربقول راوی سب کے سب وجد کرنے لگے اور یہ وجد اس علم کی وجہ سے نہ تھا جس میں وہ الجھے ہوئے تھے اگرچہ علم حق ہے انتہی،بلاشبہ اس تواجد میں حقیقی وجدکرنے والوں سے مشابہت ہے اور یہ جائزہے بلکہ شرعًا مطلوب ہے چنانچہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے وہ انہی میں سے ہے۔امام طبرانی نے "الاوسط" میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت کیا ہے،یہ تب ہے کہ جب اس سے اس کا ارادہ محض ان سے تشبہ اور ان کی عادات سے برکت حاصل کرنا ہو،ان سے محبت رکھتے ہوئے او ان کی طرف زیادہ راغب ومائل ہوتے ہوئے۔لیکن اگر اس کامقصد یہ ہو کہ لوگ اس(طریقہ)سے اس کے معتقد ہوجائیں اور اس سے برکت حاصل کریں توپھر وہ جھوٹالباس پہننے والا ہے جو اﷲ تعالٰی کے نزدیك مذموم ومغضوب ہے(اس کے باوجود)لوگ اچھے محمل پرمحمول اورقیاس کرتے ہیں لیکن صحیح طورپر وجدکرنا تو شیخ قشیری نے اپنے رسالہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا،فرمایا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ باہم وجدکرنا صاحب وجد کے لئے ٹھیك نہیں اس لئے کہ وہ تکلف پر مبنی اورتحقیق سے بعید ہے۔اور کچھ لوگ کہتے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع