30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولاعیب علی الرقص لعبد ھائم فیکا وھذا دقنا الارض اذا کنا بنادیکا وامامن اظھر ھذہ الاحوال تعمدا للتوصل الی الدنیا اولیعتقدہ الناس ویتبرکوابہ فھذا من اقبح الذنوب المھلکات انتھی، وقال الغزالی فی الاحیاء ان اباالحسن النوری رحمہ اﷲ تعالٰی کان مع جماعۃ فی دعوۃ فجرت بینھم مسألۃ فی العلم و ابوالحسن ساکت ثم رفع راسہ و انشد ھم یقول ؎ ربَ ورقاء ھتوف فی الضحٰی ذات شجوھتفت فی فنن ذکرت الفاوحزنا صالحا فبکیت حزنا فھاجت حزنی فبکائی ربما ارقھا وبکاھا ربما ارقنی ولقدتشکوفماافھمھا ولقداشکوفمایفھمنی غیرانی بالجوی اعرفھا وھی ایضا بالجوی تعرفنی قال فما بقی احد من القوم الاقام |
ناچ کرنے میں کوئی عیب نہیں اس بندہ کے لئے جو تیری ذات میں سرگشتہ اور گم ہوا اور محوہوا،اور یہ ہمارا زمین کوناچ کے ذریعے روندنا اورپامال کرنا اس لئے ہے کہ ہم تیراارادہ اور قصدکرنے والے ہیں،لیکن جس نے ان حالات کو دانستہ طوپردنیا تك رسائی کے لئے ظاہرکیا یا اس لئے کہ لوگ اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس سے تبرك حاصل کریں تو یہ کارروائی مہلك اور تباہ کن گناہوں سے بھی زیادہ قبیح ہےاھ۔ چنانچہ امام غزالی نے احیاء العلوم میں فرمایا ابوالحسن نوری رحمۃ اﷲ علیہ کسی دعوت میں ایك جماعت کے ساتھ تشریف فرماتھے کہ اچانك ان کے درمیان ایك علمی بحث چھڑگئی اور حالت یہ تھی کہ ابوالحسن نوری بالکل خاموش بیٹھے تھے پھر اچانك سراٹھایا اور یہ اشعار پڑھنے لگے، بہت سی کبوتریاں چاشت کے وقت لمبی لمبی آوازیں نکال کر درختوں کی شاخوں پربولنے لگیں۔میں نے محبت اور قابل قدرغم کویادکیا پھر میں غم کی وجہ سے روپڑا اور میرے غم میں ابال اور جوش آگیا۔بسااوقات میری گریہ وزاری نے انہیں نرم کردیا اور بساا وقات ان کی آہ وبکا نے مجھے نرم کرڈالا۔بیشك وہ شکوہ وشکایت کرتی ہیں مگرمیں تو انہیں نہیں سمجھاتا۔اور میں شکایت کرتا ہوں تو وہ مجھے نہیں سمجھاتی مگرمیں اپنے اندرونی سوزعشق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع